متحدہ عرب امارات اور کوریا کے صدور کی موجودگی میں جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط

سیئول، 29 مئی 2024 (وام) - صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے آج متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک اہم جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور باہمی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔ یہ تقریب صدر مملکت کے جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے دوران سیئول میں صدارتی دفتر میں منعقد ہوئی۔

یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیر مملکت برائے تجارت خارجہ ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور جنوبی کوریا کی جانب سے وزیر تجارت، صنعت اور توانائی آن ڈوک گیون نے کیا۔

اس موقع پر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جنوبی کوریا کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا ترقی، جدت اور پائیدار ترقی کے وژن کا اشتراک کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ تاریخی معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور جدت کو فروغ دینے کے لیے ان کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

متحدہ عرب امارات-کوریا معاہدہ متحدہ عرب امارات کے سی ای پی اے (CEPA) پروگرام میں تازہ ترین پیش رفت ہے، جس کا مقصد 2031 تک غیر تیل کی غیر ملکی تجارت کو 4 ٹریلین درہم سے آگے لے جانا ہے۔ اس کے لیے ٹیرف میں کمی یا خاتمہ، برآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ، تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا، اور نجی شعبے کے تعاون کے لیے پلیٹ فارم تخلیق کرنا شامل ہے۔

معاہدے کی شرائط کے تحت، دونوں فریقین کی کمپنیاں اور سرمایہ کار تمام ٹیرف کے خاتمے، توانائی، وسائل، صحت کی دیکھ بھال، جدید صنعتوں، اسمارٹ فارمز اور بائیو اکانومی جیسے اہم شعبوں میں تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے سے مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے تیزی سے ترقی پذیر خطوں میں منڈیوں تک رسائی بھی ممکن ہوگی۔

دونوں فریقین نے متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا کی حکومتوں کے درمیان موسمیاتی تبدیلی پر تعاون کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

اس کے علاوہ، شیخ محمد بن زاید اور صدر یون نے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) کے اعلان، تبادلے اور دستخط کی ایک تقریب بھی دیکھی۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا اعلان، دستخط اور تبادلہ وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر؛ وزیر توانائی و بنیادی ڈھانچہ سہیل محمد المزروعی؛ ایگزیکٹو افیئرز اتھارٹی کے چیئرمین، ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای اوخلدون خلیفہ المبارک؛ وزیر مملکت برائے تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزيودی؛ منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او، امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن محمد ابراہیم الحمادی؛ متحدہ عرب امارات کے سفیر برائے کوریاعبداللہ سیف النعیمی اور وفاقی ادارہ برائے جوہری ریگولیشن کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹر وکٹرسن نے کیا۔

کوریائی حکام کی جانب سے بھی ان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا اعلان، تبادلہ اور دستخط عمل میں لائے

ان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں میں تھرڈ پارٹی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ایل این جی بحری جہازوں کی تعمیر، ایٹمی بجلی گھروں میں مشترکہ سرمایہ کاری، دانشورانہ املاک، افریقہ میں مشترکہ تعاون، سمندری نقل و حمل، ثقافتی شعبے میں تعاون، کاربن کی گرفت و ذخیرہ، سفارتی اکیڈمیوں کے درمیان تعاون، ایل پی جی ویلیو چین میں تعاون، جوہری تحفظ، ریڈیو سپیکٹرم مینجمنٹ، اور اسٹریٹجک ذخیرہ منصوبے جیسے شعبوں میں باہمی اشتراک شامل ہیں۔