یو ایس ایڈ ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے غزہ کے حوالے سے ڈونر ممالک کے اجلاس کا انعقاد

نیویارک، 31 مئی، 2024 (وام)-- یو ایس ایڈ کے زیر اہتمام غزہ میں جاری سفارتی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونر پارٹنرزکے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔یوایس ایڈ کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور نے اجلاس میں غزہ میں جاری جنگ خاص طور پر رفح میں اس کےتباہ کن انسانی اثرات کو اجاگرکیا، جہاں اسرائیلی دفاعی افواج( آئی ڈی ایف) کی فوجی کارروائیوں سے تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں انہوں نے اسرائیل سے شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیا۔

اجلاس میں امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، فن لینڈ، ناروے،قبرص،آئرلینڈ، کویت، اردن، جاپان، سویڈن، جمہوریہ کوریا،نیوزی لینڈ، سعودی عرب، نیدرلینڈز، قطر، برطانیہ اور یورپی یونین نمائندوں نے شرکت کی۔

یو ایس ایڈ کے قائم مقام ترجمان شیجل پلیوارتی نے ایک بیان میں کہا کہ یو ایس ایڈ ایڈمنسٹریٹر نےخاص طور پرقحط کے ممکنہ خطرے کی روشنی میں غزہ میں فلسطینیوں کے لیے خوراک، پناہ گاہوں،صحت، تحفظ، پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی امداد کی فوری ضرورت پر زوردیا۔ عطیہ دہندگان نے غزہ کے اندر جاری حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا جن کی وجہ سے کمزور کمیونٹیوں میں امداد کی موثر تقسیم محدود ہورہی ہے،شرکا نے اسرائیل سے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے لیے امداد کی محفوظ طریقے سے تقسیم یقینی بنانے کے لیے فرینڈلی فائر کے واقعات کی روک تھام کےطریقہ کارکو بہتر بنانے کی اہم ضرورت کا بھی مطالبہ کیا۔

پاور نے عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ زندگی بچانے والی امداد بشمول اقوام متحدہ اور این جی اوز کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی کے لیے اپنے وعدوں میں اضافے پر غور کریں، ایڈمنسٹریٹر نے عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مالیاتی وعدوں یا کسی بھی قسم کی امداد فراہم کر کے کثیر القومی امدادی بحری راہداری میں حصہ لیں۔ تاہم، ان کا موقف تھا کہ زمینی راستے اب بھی امداد کی ترسیل کے لیے سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
شرکاء نے امداد کے تمام راستوں خاص طور پرزمینی راہداریوں کو کھولنے اور زیادہ سے زیادہ کرنے، محفوظ اور امداد کی موثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل حمایت کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔