امریکی وزیر خارجہ سے فون پر گفتگو،عبداللہ بن زاید نےغزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدربائیڈن کی تجاویزکو سراہا

ابوظہبی، یکم جون، 2024 (وام) ۔۔ وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے امریکی صدرجو بائیڈن کی پیش کردہ تجاویزکو اہم قراردیتے ہوئے لڑائی روکنے کے غرض سے ایسی کوششوں کو سراہا ہے۔
عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ فون پر مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین اور غزہ کی پٹی کی موجود صورتحال خاص طور پر انسانی ہمدردی کے حوالے سے پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ صدرجوبائیڈن کی تجاویزکا جائزہ لیا،جس میں جامع جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلاء، قیدیوں اوریرغمالیوں کی رہائی،شمالی غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی،غزہ کے لیے امداد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کے ایک جامع منصوبے پر عمل درآمد شامل ہے۔
اس حوالے سے عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے صدر بائیڈن کی تجاویز اور دیگرتمام تجاویز پر سنجیدگی اور مثبت انداز سے غور کرنےکی ضرورت پر زور دیا، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی تمام شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ اور غزہ کی پٹی میں شہری مشکلات کا باعث بننے والے بگڑتے ہوئے انسانی بحران اور جنگ کو ختم کرنا ہے۔
شیخ عبداللہ نے دو ریاستی حل پر مبنی جامع امن کے حصول کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ سیاسی ماحول کی تشکیل کے لیے ان تجاویز کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی اہمیت پر زوردیا۔

عزت مآب نے جنگ بندی کے لیے قطر، مصر اور امریکہ کی طرف سے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا، اور پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے تمام تر کوششوں اورغزہ میں شہریوں کو فوری امداد کی فراہمی اوربرادر فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے متحدہ عرب امارات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

عزت مآب نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی،کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تشدد نے خطے کو غیرمعمولی عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے اور اس صورتحال کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مربوط علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے ، خطے میں سلامتی اور استحکام کی بنیادوں کو مضبوط اور ایک باوقار زندگی، ترقی اور خوشحالی کے لیے لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے پرتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔