سیٹ گیٹ" منصوبے کے تحت متحدہ عرب امارات عالمی بحری مرکز بننے کی راہ پر گامزن"

دبئی، 8 جولائی 2024 (وام) - وزارت توانائی و بنیادی ڈھانچہ (ایم او ای آئی) نے محمد بن راشد خلائی مرکز (ایم بی آر ایس سی) کے تعاون سے "سیٹ گیٹ" منصوبے کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے بحری جہازوں کی لوکیشن، سمندری حالات کی نگرانی، اور موسم کی پیش گوئی کو بہتر بنانا ہے تاکہ متحدہ عرب امارات کو عالمی سطح پر ایک ممتاز بحری مرکز کے طور پر مضبوط کیا جاسکے۔

"سیٹ گیٹ" متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں پر آنے والے بحری جہازوں کا ایک ڈیٹابیس تیار کرے گا اور ان بحری جہازوں کی لوکیشن کا پتہ لگا کر جو ٹریکنگ آلات سے منسلک نہیں ہیں، بندرگاہوں اور ساحلوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔

وزیر توانائی و بنیادی ڈھانچہ، سہیل محمد المزروعی نے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بحری سلامتی کو فروغ دینے، قومی بحری شعبے کی مسابقت میں اضافہ کرنے، اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے اس نقطہ نظر کے تحت کیا گیا ہے کہ ترقی اور پیش رفت کے لیے اپنی معروف خلائی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہمارے ٹریکنگ نظام کو بہتر بنانے سے بحری نقل و حمل میں بہتری آئے گی اور خطرات کم ہوں گے، جس سے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت اور نقل و حمل میں اضافہ ہوگا۔ بحری شعبے میں جدت صرف معیشت کو ہی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ یہ سمندری ماحول کے تحفظ اور ترقی کے ذریعے پائیدار ترقی کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

محمد بن راشد خلائی مرکز کے چیئرمین، حمد عبید المنصوری نے کہا کہ وزارت توانائی و بنیادی ڈھانچہ کے تعاون سے 'سیٹ گیٹ' منصوبے کا آغاز بحری شعبے کو فائدہ پہنچانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ منصوبہ پائیدار ترقی کے حصول اور ملک کی ایک معروف بحری مرکز کے طور پر حیثیت کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے متحدہ عرب امارات کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔