ابوظہبی، 22 جولائی 2024 (وام) – لوور ابوظہبی ایک ثقافتی اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جس نے 2017 میں اپنے افتتاح کے بعد سے 50 لاکھ زائرین کا استقبال کیا ہے۔ یہ میوزیم ثقافتی مکالمے اور عالمی اہمیت کی ایک ثقافتی علامت ہے۔
تقریباً 24,000 مربع میٹر پر مشتمل یہ میوزیم عرب دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا عالمی میوزیم ہے۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) سے بات کرتے ہوئے، لوور ابوظہبی کے ڈائریکٹر مینوئل ربیٹ نے بتایا کہ مشہور فرانسیسی معمار جین نوویل کے بنائے ہوئے اس میوزیم نے ابوظہبی کے ثقافتی اور فنکارانہ ماحول کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ یہ میوزیم متحدہ عرب امارات کی ثقافتی کامیابیوں کا آئینہ ہے اور سعدیات کے علاقے کو ایک اہم ثقافتی اور سیاحتی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال میوزیم نے 313 سے زائد فنکاروں کے تقریباً 6000 فن پاروں کی نمائش کی ہے، جو مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان فن پاروں میں قدیم دور سے لے کر جدید دور کے شاہکار شامل ہیں، جنہیں ایک ساتھ دیکھ کر زائرین مختلف ثقافتوں کے درمیان تعلق اور فکری تبادلے کو سمجھ سکتے ہیں۔
رابیٹ نے میوزیم کے مستقل مجموعے کا بھی ذکر کیا، جس میں دنیا بھر کے نایاب خزانے موجود ہیں۔ انہوں نے میوزیم کی جانب سے منعقد ہونے والی اہم نمائشوں کابارے میں بھی بتایا جن میں "کارٹیر، اسلامک انسپریشن اور ماڈرن ڈیزائن" اور "کلیلہ و دمنہ سے لا فونٹین: کہانیوں کا سفر" شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2017 میں اپنے افتتاح کے بعد سے میوزیم میں 50 لاکھ زائرین آ چکے ہیں، جن میں 28 فیصد اماراتی شہری اور رہائشی ہیں جبکہ 72 فیصد بین الاقوامی سیاح ہیں۔ان سیاحوں میں زیادہ تر روس، چین، بھارت، فرانس، امریکہ، برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور فلپائن سے تعلق رکھتے ہیں۔
مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ربیٹ نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو تعلیم دینے کے طریقوں میں جدت لاتے ہوئے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھائیں گے۔ اس میں نمائشوں میں اضافی حقیقت ‘augmented reality’ اور مجازی حقیقت ‘virtual reality’ جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال بھی شامل ہے تاکہ نوجوان زائرین کو ایک نیا اور دلچسپ تجربہ حاصل ہوسکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میوزیم جلد ہی اس سال نمائش کے لیے ادھار لیے گئے مجموعوں کی ایک متاثر کن صف کا اعلان کرے گا۔