ابوظہبی، 13 اگست 2024 (وام) – متحدہ عرب امارات کی حکومت نے گھریلو ملازمین سے متعلق وفاقی فرمان قانون میں کئی اہم ترامیم کا اعلان کیا ہے۔ ان ترامیم کا مقصد آجروں، گھریلو ملازمین اور بھرتی کمپنیوں کے مابین پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کو تیز تر اور موثر بنانا ہے۔
نئے قوانین کے تحت گھریلو ملازمین سے متعلق تمام مقدمات اب براہ راست ابتدائی عدالت (Court of First Instance) میں سنیں جائیں گے۔ اپیل کی عدالتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیر التوا مقدمات کو بغیر کسی فیس کے ابتدائی عدالت میں منتقل کریں۔ تاہم، وہ مقدمات جو پہلے ہی فیصلے کے مراحل میں ہیں، ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا۔
اگر آجر، گھریلو ملازمین یا بھرتی کمپنی کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے، اور اسے باہمی رضامندی سے حل نہیں کیا جا سکتا، تو معاملہ کو وزارت انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن (MOHRE) کے پاس بھیجا جائے گا۔ وزارت مصالحت کے ذریعے تنازعہ کے حل کی کوشش کرے گی۔ تاہم، اگر طے شدہ مدت میں کوئی تصفیہ نہیں ہوتا تو وزارت کیس کو ابتدائی عدالت میں بھیج دے گی۔
وزارت کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان تنازعات کا فیصلہ خود کرے جن میں دعوی کی رقم 50,000 درہم سے زیادہ نہ ہو، یا پھر کسی فریق کی طرف سے وزارت کے سابقہ فیصلے کی عدم تعمیل کا معاملہ ہو۔
اگر کوئی فریق وزارت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے، تو وہ 15 ورکنگ ڈیز کے اندر ابتدائی عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ ابتدائی عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگا، اور اپیل دائر کرنے سے وزارت کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائے گا۔