وزارت معیشت کا متحدہ عرب امارات میں ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیوں کے لئے ریگولیٹری قانون سازی کا جائزہ

دبئی، 30 اگست 2024 (وام)-- متحدہ عرب امارات کی وزارتِ اقتصادیات نے ملک میں مصنوعات اور خدمات کی ٹیلی فون مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنے کی اپنی کوششوں پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس میں کابینہ کے قرارداد نمبر 56 برائے 2024 کا انکشاف کیا گیا، جو ٹیلی فون مارکیٹنگ کے لیے سخت قوانین وضع کرتی ہے، ساتھ ہی کابینہ کی قرارداد نمبر 57 برائے 2024، جس میں خلاف ورزیوں اور ان سے متعلق انتظامی جرمانوں کی فہرست دی گئی ہے۔

قرارداد نمبر 57 میں خلاف ورزی کی 18 اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں خلاف ورزی کی شدت کے لحاظ سے جرمانے کی رقم 10,000 درہم سے 150,000 درہم تک ہو سکتی ہے۔ وزارت نے مارکیٹنگ کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے پیشگی منظوری حاصل کرنے، ماہرین کو پیشہ ورانہ اخلاقیات پر تربیت دینے اور رجسٹرڈ مقامی ٹیلیفون نمبروں کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ کمپنیوں کو کال کے اوقات (صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک) کا احترام کرنا اور کال کے آغاز سے ہی کال کرنے والے کی شناخت اور رابطے کے مقصد کے بارے میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

وزارتِ اقتصادیات ان قراردادوں کے نفاذ کی نگرانی کرے گی، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ٹی ڈی آر اے) "ڈو ناٹ کانٹیکٹ رجسٹر" (ڈی این سی آر) کا انتظام کرے گی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرے گی۔ مرکزی بینک متحدہ عرب امارات اور سیکیورٹیز اینڈ کمیڈٹیز اتھارٹی (ایس سی اے) بھی اپنے متعلقہ شعبوں کے لیے ٹیلی مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنے میں مخصوص کردار ادا کریں گے۔

سیکیورٹیز اینڈ کموڈٹیز اتھارٹی کی سی ای او مریم بٹی السویدی نے ٹیلی مارکیٹنگ کی سرگرمیاں انجام دینے کی خواہش مند کمپنیوں کے لیےاتھارٹی سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ناپسندیدہ تجارتی کالز کی صورت میں عوام کی شکایات درج کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے قیام کا بھی اعلان کیاہے۔

ٹیلی کمیونیکیشنز اور ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمد الرمسی نے 'ڈو ناٹ کال رجسٹر' (ڈی این سی آر) کے آغاز کی تصدیق کی، جس سے صارفین کو مارکیٹنگ کالز سے آپٹ آؤٹ کرنے کی اجازت ملے گی۔ انہوں نے ان افراد کے لیے جرمانے کی بھی وضاحت کی جو قوانین کی پاسداری کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جن میں 50,000 درہم تک جرمانے اور ٹیلی فون خدمات کی معطلی شامل ہے۔

کابینہ کی قراردادوں کا مقصد منصفانہ کاروباری طریقے قائم کرنا، صارفین کا تحفظ اور ملک میں ذمہ دارانہ مارکیٹنگ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔