غزہ، 8 اکتوبر، 2024 (وام) – عالمی ادارہ صحت کے ایک بیان کے مطابق، اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جس کے دوران غزہ کی پوری آبادی کی 6 فیصد سے زیادہ عوام ہلاک یا زخمی ہو گی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کم از کم 10 ہزار افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے کہا کہ 7 اکتوبر کو شمالی غزہ، فلسطین کے کچھ حصوں کے لئے اسرائیلی انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے ہزاروں افراد فوری طور پر جنوب کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں کیونکہ اس علاقے کو فضائی حملوں اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادارہ کا مزید کہنا تھا کہ اس تازہ ترین جبری نقل مکانی میں بیت حنون، جبالیہ اور بیت لاہیا کے رہائشیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنوب میں الموسی اور دیر البلاح کے درمیان بھیڑ بھاڑ والے نام نہاد انسانی علاقے میں منتقل ہوجائیں، جہاں دس لاکھ افراد پہلے ہی غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انخلا کے احکامات کو روکیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہیں انتہائی ہنگامی صورت حال کے طور پر انتہائی ضروری انسانی امداد کی فراہمی کو بھی شمال میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہیے۔