متحدہ عرب امارات کی حکومت اور 'UiPath' کا اہم معاہدہ: مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مستقبل کی جانب ایک قدم

دبئی، 9 دسمبر، 2024 (وام) --متحدہ عرب امارات کی حکومت کے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، اور ریموٹ ورک ایپلیکیشنز کے دفتر نے آج ‘UiPath’ کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا، جو ایک معروف آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی ہے۔ اس شراکت کا مقصد ایجنٹک آٹومیشن کے شعبے میں ترقی کرنا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ایک جدید آٹومیشن ماڈل ہے۔

یہ شراکت حکومت کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی آٹومیشن حل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اماراتی شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مہارت فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔

معاہدے پر دستخط وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ریموٹ ورک ایپلیکیشنز عمر سلطان العلماء اور 'UiPath' کے بانی اور سی ای او ڈینیئل ڈینس نے کیے۔ یہ یادداشت متحدہ عرب امارات کی قومی حکمت عملی برائے مصنوعی ذہانت کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا مقصد 2031 تک عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنا ہے۔

ڈائریکٹر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے دفتر ڈاکٹر عبدالرحمن المحمودنے کہا، "اماراتی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آٹومیشن حکومتی خدمات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور حکومتی عملے کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وائس پریذیڈنٹ 'UiPath' مشرق وسطیٰ اور افریقہ زکریا حالتوت نے شراکت داری کے فوائد بتاتے ہوئے کہاکہ،"امارات نے مصنوعی ذہانت کے مواقع کو جلد پہچانا اور ان سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس شراکت کے ذریعے ہم سرکاری شعبے میں آٹومیشن متعارف کرانے اور اماراتی ٹیلنٹ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔"

یہ شراکت داری متحدہ عرب امارات کی حکومتی خدمات کو جدید بنانے اور اقتصادی، تعلیمی، اور سماجی ترقی میں مدد فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ ملک کے مصنوعی ذہانت میں عالمی قائد بننے کے وژن کی تکمیل کا اہم حصہ ہے۔