اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اسرائیل کے بارے میں عالمی عدالت برائےانصاف سے مشورتی رائے لینے کا فیصلہ

نیویارک، 20 دسمبر، 2024 (وام) --اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کے روز ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں عالمی عدالت برائےانصاف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ، دیگر بین الاقوامی تنظیموں اور تیسرے ممالک کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں پر مشورتی رائے دے۔

اس قرارداد کو 137 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ 12 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا اور 22 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں جنرل اسمبلی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شدید انسانی بحران پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کو ان کے حق خودارادیت کے استعمال سے روکنے سے گریز کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔

جنرل اسمبلی نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو فلسطینی عوام کو ضروری امداد فراہم کرتی ہے۔

یہ قرارداد اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے دو قوانین کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں سے ایک قانون اسرائیل میںفلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتا ہے، اور دوسرا قانون اسرائیلی حکام کو ایجنسی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے سے روکتا ہے۔