ابوظہبی، 23 دسمبر، 2024 (وام) --متحدہ عرب امارات کے شعبہ صحت نے 2024 میں کارکردگی کو بہتر بنانے، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی۔ 2025 کے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا 8 فیصد، یعنی 5.745 ارب درہم، صحت اور کمیونٹی کی روک تھام کی خدمات کے لیے مختص کیا گیا۔
اہم اقدامات میں یو اے ای کابینہ کی جانب سے نجی شعبے کے ملازمین اور گھریلو کارکنان کے لیے لازمی صحت انشورنس کا نظام منظور کرنا شامل ہے، جو 1 جنوری 2025 سے نافذ ہوگا۔ اس کے تحت، ملازمین اور گھریلو کارکنان کی انشورنس کے اخراجات ان کے مالکان اور اسپانسرز برداشت کریں گے۔ مزید برآں، کابینہ نے خواتین کی صحت کے لیے قومی پالیسی کی منظوری دی، جس کا مقصد خواتین کو اعلیٰ معیار کی صحت کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
امارات جینوم کونسل نے جنوری 2025 سے اماراتی شہریوں کے لیے شادی سے پہلے جینیٹک ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کی صحت پر مرکوز ایک خصوصی میڈیکل سٹی کے منصوبے کا اعلان کیا گیا، جس میں شیخ خلیفہ میڈیکل سٹی اور کارنیش اسپتال جیسے مراکز شامل ہوں گے۔
دبئی میں دبئی ہیلتھ کیئر سٹی کے دوسرے مرحلے کے تحت اسان-یو اے ای گیسٹرو اینٹرولوجی اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جو جنوبی کوریا کے اسان اسپتال کے تعاون سے قائم کیا جا رہا ہے۔ "جہزیہ" پروگرام کے تحت قومی نرسنگ اکیڈمی کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد اماراتی صحت کے پیشہ ور افراد کی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔
عالمی شراکت داری کے تحت، وزارت صحت نے کینسر کے ابتدائی تشخیص کے پروگرامز کو فروغ دینے کے لیے ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدہ کیا۔ ابوظہبی کے محکمہ صحت نے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھئیر لیونگ کو لائسنس دیا، جو دنیا کا پہلا مرکز ہے جو طویل عمر کی صحت پر توجہ دیتا ہے۔
امارات کے اسپتالوں نے پیچیدہ سرجریوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں دبئی اسپتال میں دنیا کے سب سے بڑے ایڈرینل گلینڈ ٹیومر کا کامیاب آپریشن، برجیل میڈیکل سٹی میں بچوں کی پہلی جگر کی پیوند کاری، اور ابوظہبی اسٹیم سیلز سینٹر کی جانب سے خون کے سرطان میں مبتلا ایک کمسن مریضہ پر اووری کی حفاظت کا پہلا طریقہ کار شامل ہے۔ 'SEHA' نے تھائرائیڈ کینسر کے لیے ڈائیلیسس مریض کا ریڈیو ایکٹیو علاج بھی کامیابی سے مکمل کیا۔
ملکی صحت کے فروغ کے لیے، وزارت صحت نے 2024-2025 کے لیے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سروے کا آغاز وفاقی اور مقامی صحت حکام کے تعاون سے کیا۔
یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کے شعبہ صحت میں عالمی معیار، جدید طبی منصوبوں، اور عالمی تعاون کے ذریعے ترقی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔