نیویارک، 25 دسمبر، 2024 (وام) --اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کے روز سائبر کرائم کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک نیا کنونشن منظور کیا، جس کے لیے پانچ سالہ مذاکراتی عمل مکمل ہوا۔
اقوام متحدہ کا سائبر کرائم کے خلاف کنونشن سائبر جرائم کو زیادہ مؤثر اور کارگر طریقے سے روکنے اور ان سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا، تکنیکی معاونت فراہم کرنا، اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کنونشن کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ 20 سال میں پہلا بین الاقوامی فوجداری انصاف کا معاہدہ ہے جو مذاکرات کے ذریعے طے پایا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ، "یہ معاہدہ مشکل حالات میں کثیر الجہتی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے اور رکن ممالک کے اس اجتماعی عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے کر سائبر کرائم کو روکیں گے اور اس سے نمٹیں گے۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کنونشن شواہد کے تبادلے، متاثرین کے تحفظ، اور روک تھام کے لیے تعاون کا بے مثال پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جبکہ آن لائن انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ نیا معاہدہ ایک محفوظ سائبر اسپیس کو فروغ دے گا اور تمام ممالک سے اس کنونشن میں شمولیت اور اس پر عملدرآمد کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فیلومین یانگ نے کہاکہ، "ہم ایک ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں، جہاں معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز معاشروں کی ترقی کے لیے بے پناہ صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی سائبر کرائم کے خطرے کو بھی بڑھاتی ہیں۔ اس کنونشن کی منظوری کے ساتھ، رکن ممالک کے پاس وہ ٹولز اور وسائل موجود ہیں جو بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنائیں گے اور آن لائن لوگوں اور ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔"
سائبر کرائم کے خلاف کنونشن 2025 میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ایک رسمی تقریب میں دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ کنونشن 40 ویں رکن ملک کی توثیق کے 90 دن بعد نافذ العمل ہو گا۔