شینزین، 26 دسمبر، 2024 (وام) --چین کی زرعی سائنسز کی اکیڈمی کے تحت شینزین کے زرعی جینومکس انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر یانگ چنگ کی قیادت میں چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک اہم دریافت کی ہے۔ انہوں نے ایک کلیدی پروٹین 'ABCH' کی شناخت کی ہے، جو کیڑوں کے خلیوں میں لپڈ کی منتقلی اور کیڑے مار ادویات کی ڈیٹوکسیفیکیشن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چائنا ڈیلی کے مطابق، تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ ‘ABCH’پروٹینز پمپ کی طرح کام کرتے ہیں، جو کیڑوں کے خلیوں سے زہریلے مواد کو باہر نکال کر انہیں کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
محققین نے ایک چھوٹے مالیکیول پر مبنی ایک ایسا روک تھام کنندہ 'inhibitor' کامیابی سے تیار کیا ہے جو ان پروٹینز کو غیر فعال کر سکتا ہے، جس سے کیڑے مار ادویات زیادہ مؤثر ہو جاتی ہیں اور کیڑوں کی مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔
یہ تحقیق اس دریافت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ زرعی کیڑے مار ادویات کو زیادہ محفوظ اور ماحول دوست بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق، زرعی کیڑے سالانہ عالمی فصلوں کے نقصان کا 40% تک سبب بنتے ہیں، جس سے 220 ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان ہوتا ہے۔
پروفیسر یانگ نے بتایا کہ ان کی ٹیم نئے دریافت شدہ روک تھام کنندہ کی افادیت کو مزید وسیع کرنے کے لیے تحقیق جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی امید ظاہر کی کہ آنے والے سالوں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید زرعی کیڑے مار ادویات تیار کی جائیں گی۔