ابوظہبی، 27 دسمبر، 2024 (وام) --2024 میں متحدہ عرب امارات نے اپنے قانون سازی کے نظام کو جدید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ یہ موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ اور مستقبل کی ترقیات کا پیش خیمہ بنے۔ اس حکمت عملی کا مقصد قوانین کو سادہ بنانا، طریقہ کار کو آسان بنانا، اور ذمہ داریوں کو واضح کرنا ہے۔
صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے انٹرنیشنل ہیومینٹیرین اینڈ فلانتھروپک کونسل کے قیام کے لیے ایک وفاقی فرمان جاری کیا، جو بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور فلاحی امور کی نگرانی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ارث زاید فلانتھروپیز کا قیام بھی عمل میں آیا، جو مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے انسانی ہمدردی کے ورثے کو زندہ رکھنے کا عکاس ہے۔
مزید برآں، یو اے ای ایڈ ایجنسی کا قیام بھی عمل میں آیا، جو انٹرنیشنل ہیومینٹیرین اینڈ فلانتھروپک کونسل کے تحت کام کرے گی۔ یہ ایجنسی آزاد قانونی حیثیت کی حامل ہوگی اور بیرونی امدادی پروگراموں کو ملک کی عمومی انسانی ہمدردی کی پالیسی کے مطابق نافذ کرے گی۔
حکومت نے وفاقی فرمان-قانون میں ترامیم کیں جو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور غیر قانونی تنظیموں کی مالی امداد کے خلاف ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد مالی جرائم کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا اور بین الاقوامی سفارشات و معاہدات کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
اس میں قومی کمیٹی برائے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قیام کی منظوری بھی شامل ہے، جو کابینہ کے فیصلے کے تحت بنائی جائے گی۔
وفاقی فرمان-قانون میں ترامیم کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے لیبر قانون کو بہتر بنایا گیا ہے، جس کا مقصد لیبر مارکیٹ کی مسابقت اور کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت غیر قانونی طور پر ملازمین کی بھرتی، کام کے اجازت نامے کا غلط استعمال، یا کاروبار بند کر کے ملازمین کے حقوق کو نظرانداز کرنے پر 1 لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ نابالغ افراد کے غیر قانونی روزگار پر بھی یہی سزائیں لاگو ہوں گی۔
کابینہ نے متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے ایک وفاقی قانون کی منظوری دی، جو ایک مضبوط قانون سازی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ مالیاتی تنظیم نو اور دیوالیہ پن سے متعلق وفاقی فرمان-قانون کے ایگزیکٹو ریگولیشنز اور سمندری قانون کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کی بھی منظوری دی گئی۔ ان قوانین کا مقصد سمندری مفادات، بحری سلامتی، اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
کابینہ نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق خلاف ورزیوں کے لیے ایک متحدہ فہرست اور ان کے انتظامی جرمانوں کی منظوری دی۔ یہ قوانین وزارت انصاف اور وزارت معیشت کی نگرانی میں نافذ کیے جائیں گے۔
یہ قوانین اور ترامیم نہ صرف متحدہ عرب امارات کے قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ معیشت، انسانی حقوق، اور عالمی سطح پر قیادت کے حوالے سے اس کے عزم کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔