ابوظہبی، 14 جنوری، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے ‘CEPA’پر دستخط کیے ہیں۔ یہ تقریب صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور ملائیشیا کے وزیر اعظم عزت مآب انور ابراہیم کی موجودگی میں ابوظہبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر ‘ایڈنیک’ میں منعقد ہوئی۔
اس معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کو تیز کرنا، نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت، عزت مآب ڈاکٹر ثاني بن احمد الزیودی، اور ملائیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری، تجارت، اور صنعت، عزت مآب تنگکو زفرول عزیز نے دستخط کیے۔
صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کی معیشتوں کو مضبوط کرنے میں اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کو جنوب مشرقی ایشیا میں ایک اہم تجارتی شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ اہم شعبوں میں تعاون کو گہرا کرے گا، سپلائی چین کو مستحکم کرے گا، سرمایہ کاری کی صلاحیت کو بڑھائے گا، اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا۔
یہ معاہدہ مختلف اشیا پر محصولات کو کم یا ختم کرے گا، تجارتی طریقہ کار کو آسان بنائے گا، اور خدمات کی برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔ ملائیشیا، جو جنوب مشرقی ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، پہلے ہی یو اے ای کا 'ASEAN' خطے میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں غیر تیل دو طرفہ تجارت 2023 میں 4.9 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، اور 2024 کے پہلے نو مہینوں میں 4 بلین ڈالر رہی۔ یو اے ای عرب دنیا میں ملائیشیا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے، جو عرب ممالک کے ساتھ ملائیشیا کی تجارت کا 32 فیصد حصہ دار ہے۔
یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، اور اس سے آگے ملائیشیا کی برآمدات کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر مضبوط کرے گا، جبکہ 'ASEAN' مارکیٹ کو یو اے ای کے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے کھولے گا۔
متحدہ عرب امارات کا ‘CEPA’ پروگرام غیر تیل غیر ملکی تجارت کو 2031 تک 4 ٹریلین درہم (1.1 ٹریلین امریکی ڈالر) تک پہنچانے اور ‘ASEAN’ بلاک جیسے اسٹریٹجک بازاروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ 'ASEAN' خطہ 2.9 ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد کی جی ڈی پی اور 647 ملین افراد کی آبادی کا حامل ہے۔
انڈونیشیا اور کمبوڈیا کے ساتھ پہلے ہی ‘CEPA’ معاہدے نافذ ہو چکے ہیں، اور یو اے ای خطے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، جو اسے ایک عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مستحکم کرتا ہے اور ایشیا بھر میں نجی شعبے کے لیے مواقع کو وسعت دیتا ہے۔