باب المندب میں دہشت گردی: عالمی معیشت پر دباؤ اور مہنگائی کے خدشات

ابو ظہبی، 18 جنوری، 2025 (وام) -- باب المندب کی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حملے ایک سنگین عالمی چیلنج کے طور پر ابھرے ہیں، جن کے اثرات علاقائی حدود سے آگے تک پہنچ رہے ہیں۔

یہ حملے عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے اور خوراک کی عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے اشیاء اور اجناس، خصوصاً خوراک کی قیمتوں میں 2024 کے دوران مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2722 منظور کی جس میں ریڈ سی میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی اور ایسے تمام حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی تناظر میں، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی کانفرنس ‘UNCTAD’ کی 2024 کی رپورٹ نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں میں خطرات کی وجہ سے عالمی معیشت کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ریڈ سی اور پاناما کینال کا بحران جاری رہا تو 2025 تک عالمی صارف قیمتوں میں 0.6 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک میں یہ اضافہ 0.9 فیصد اور پراسیسڈ فوڈ کی قیمتوں میں 1.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں وضاحت کی گی کہ باب المندب کی گزرگاہ سے شپمنٹس کو متبادل راستے، جیسے کیپ آف گڈ ہوپ، منتقل کرنے سے فاصلے بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت، شپنگ عملے کی اجرت، اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، اور بحری قزاقی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث باب المندب اور ریڈ سی میں نیویگیشن کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات خوراک کی سلامتی خاص طور پر غریب ممالک اور کمیونٹیز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایشیا اور یورپ کے درمیان متبادل راستے استعمال کرنے سے سامان کی ترسیل کا وقت کم از کم 14 دن بڑھ جائے گا، جو ان اشیاء کی شیلف لائف کو متاثر کرے گا اور ان کی قیمتیں کم آمدنی والے طبقے کی استطاعت سے باہر کر دے گا۔

2024 میں، حوثی ملیشیا نے ریڈ سی میں تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کیے، جن میں سے بعض جہاز تیل اور گیس لے کر جا رہے تھے، تاکہ عرب خلیج سے دنیا کے مختلف حصوں تک توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو خطرے میں ڈالا جا سکے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 30 فیصد تیل اور 40 فیصد خشک کارگو ریڈ سی اور سویز کینال کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

حوثیوں کی دھمکیوں کے آغاز سے ہی، متحدہ عرب امارات نے باب المندب کے علاقے اور ریڈ سی میں سمندری نیویگیشن پر حملوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جنوری 2024 میں، اماراتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیاکہ، "متحدہ عرب امارات باب المندب اور ریڈ سی میں سمندری نیویگیشن پر حملوں کے نتائج کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ حملے بین الاقوامی تجارت، خطے کی سلامتی، اور عالمی مفادات کے لیے ناقابل قبول خطرہ ہیں۔

"اس سلسلے میں، متحدہ عرب امارات خطے کی سلامتی کے تحفظ اور اس کے ممالک اور عوام کے مفادات کو قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے دائرے میں محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔"

اگست 2021 میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنرل ڈیبیٹ میں امن و سلامتی کے تحفظ پر اپنے بیان کے دوران، امارات نے تجارتی شپنگ سمیت سمندری تحفظ کے لیے اپنی وابستگی کی تصدیق کی۔

بیان میں خطے میں سمندری نیویگیشن پر حملوں اور دھمکیوں کی تعداد میں تیز اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جن میں اس کے ساحل اور عمان کے ساحل کے قریب حالیہ حملے بھی شامل ہیں۔ امارات نے بیان میں کہا کہ ان حملوں کے اثرات خطے سے آگے بڑھ کر نیویگیشن کی آزادی اور عالمی اقتصادی بحالی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

بیان میں ان حملوں کو فوری طور پر روکنے اور جہازوں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ امارات اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے خطے میں سمندری نیویگیشن کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یو اے ای نے ستمبر 2019 میں بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی کنسٹرکٹ میں شمولیت کا فیصلہ کیا تاکہ سمندری نیویگیشن کی حفاظت اور سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔