ابوظبی میں یو اے ای-جرمن بزنس فورم، دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

ابوظبی، 3 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات اور جرمنی نے اپنے دیرینہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ابوظبی میں "یو اے ای-جرمن بزنس فورم" کا انعقاد کیا، جس میں دوطرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ فورم ابوظبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) میں منعقد ہوا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری حکام، صنعت کے رہنما، اور نجی شعبے کے نمائندے شریک ہوئے۔

فورم میں متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت، ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی، اور جرمنی کے وزیر خزانہ، ڈاکٹر جیرگ کوکیز نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں جرمنی کے سفیر الیگزینڈر شونفیلڈر اور جرمنی میں اماراتی سفیر احمد العطار بھی موجود تھے، جبکہ کاروباری برادری کے اہم اراکین نے بھی شرکت کی۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی نے افتتاحی خطاب میں یو اے ای اور جرمنی کے مضبوط اقتصادی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

"جرمنی متحدہ عرب امارات کے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، جہاں 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارتی حجم 13.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.4 فیصد اضافہ ہے اور عالمی تجارتی ترقی کی اوسط سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ آج کا فورم قابل تجدید توانائی، انڈسٹری 4.0، صنعتی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے اس رفتار کو مزید بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔"

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی تجارتی پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای، جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں (CEPA) کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں تک جرمن کاروباری اداروں کو غیرمعمولی رسائی فراہم کرتا ہے۔

جرمن وزیر خزانہ، ڈاکٹر جیرگ کوکیز نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

"متحدہ عرب امارات ایک بڑے تجارتی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا مرکزی گیٹ وے ہے، اور جرمنی کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ہم خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، تجارت اور پائیدار سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے منتظر ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے عالمی معیشتیں سبز توانائی، ڈیجیٹل تبدیلی، اور جدید صنعتی ترقی کی طرف گامزن ہیں، جرمنی اور اماراتی کاروباری اداروں کے لیے باہمی اشتراک کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

فورم میں صاف توانائی، مالیات، صنعتی ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس میں تعاون کو مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی، جہاں پائیداری اور اختراع کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

2022 میں دستخط شدہ "انرجی سیکیورٹی اور انڈسٹری ایکسیلیریٹر معاہدے" کے تحت ہونے والی پیش رفت بھی نمایاں کی گئی، جس کے نتیجے میں کم کاربن امونیا، مائع قدرتی گیس (LNG)، اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ ملا۔ اس معاہدے کے تحت، مصدر نے بالٹک ایگل آف شور ونڈ فارم میں سرمایہ کاری کی، جو جلد ہی جرمنی کے 4,75,000 گھروں کو صاف توانائی فراہم کرے گا۔

مزید برآں، جرمنی کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اور صنعتی خودکاری کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پر بھی بات چیت کی گئی، جسے یو اے ای کے "NextGen FDI" اقدام کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے۔

یو اے ای اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام دیکھا جا رہا ہے، جہاں 2024 میں غیر تیل تجارتی حجم 13.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 5.4 فیصد اور 2022 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔

جرمنی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت میں یورپی یونین کے اندر دوسرا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر 13 واں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

2024 میں یو اے ای کی جرمنی کو غیر تیل برآمدات 44.7 فیصد بڑھ کر 616 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ دوبارہ برآمدات (ری-ایکسپورٹ) کا حجم 1.1 بلین امریکی ڈالر رہا، جو جرمنی کے عالمی تجارتی گیٹ وے کے طور پر کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

دوسری جانب، جرمنی سے یو اے ای کو برآمدات 12.1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس نے جرمنی کو یورپی یونین کے اندر یو اے ای کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا دیا، اور دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کے تسلسل کو مزید مستحکم کر دیا۔

فورم کے اختتام پر کاروباری رہنماؤں کے درمیان نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے "بزنس میچ میکنگ" میٹنگز کا انعقاد کیا گیا۔

متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بھی دستخط کیے گئے، جن میں اماراتی اور جرمن کمپنیوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری خاص طور پر فِن ٹیک، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اور پائیدار سرمایہ کاری کے شعبوں میں شامل رہی۔

معاہدوں میں جرمنی کی "کیپیٹل 468" کمپنی کی جانب سے یو اے ای میں قائم کمپنیوں میں سرمایہ کاری شامل تھی، جن میں ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم "علاّن" اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی "فلو 48" شامل ہیں۔ مزید برآں، "ہائڈروم ٹیکنالوجیز" اور سونے کی ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے پلیٹ فارم "اورو" میں بھی سرمایہ کاری کی گئی۔

اس کے علاوہ، جرمنی کی آئی ٹی اور ایچ آر آٹومیشن کمپنی "ZenAdmin" نے متحدہ عرب امارات میں مقامی آئی ٹی پلیٹ فارم حاصل کرنے کا اعلان کیا، جس سے وہ مقامی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرے گی اور امارات کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی کوششوں میں معاون بنے گی۔