متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت 3 ٹریلین درہم کی تاریخی حد عبور کر گئی

دبئی، 5 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے اعلان کے مطابق ملک کی غیر تیل تجارت 2024 کے اختتام تک پہلی بار 3 ٹریلین درہم (815.7 بلین ڈالر) کی تاریخی حد عبور کر چکی ہے۔

شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں، ملک اپنی اسٹریٹجک اقتصادی اور ترقیاتی اہداف کو متوقع رفتار سے زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں کہاکہ،"میرے بھائی، عزت مآب شیخ محمد بن زاید، نے کئی سالوں تک عالمی سطح پر اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں لگائے… آج ہم ان کوششوں کے ثمرات دیکھ رہے ہیں۔"

2024 میں، جب عالمی تجارت کی شرح نمو صرف 2 فیصد رہی، متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت نے 14.6 فیصد ترقی حاصل کی، جو عالمی اوسط سے سات گنا زیادہ ہے۔

شیخ محمد نے مزید کہاکہ،"جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے 'CEPA'، جو شیخ محمد بن زاید کی قیادت میں کیے گئے، نے ہمارے غیر تیل تجارتی حجم میں 135 بلین درہم کا اضافہ کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد زائد ہے۔"

انہوں نے بتایاکہ،"2021 میں، ہم نے 2031 تک سالانہ 4 ٹریلین درہم تک غیر تیل تجارت پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن 2024 کے اختتام تک ہم پہلے ہی 75 فیصد ہدف حاصل کر چکے ہیں۔ اگر ترقی کی یہی رفتار جاری رہی تو ہم اپنا ہدف مقررہ وقت سے کئی سال پہلے حاصل کر لیں گے۔"

انہوں نے زور دیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی اقتصادی ترقی کو سیاست پر فوقیت دیتا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط کر کے خوشحالی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے مطابق، 2024 میں عالمی تجارتی ترقی میں محدود اضافہ دیکھا گیا، جس میں سامان کی تجارت کی مقدار میں 2.4 فیصد اور قدر میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت میں 14.6 فیصد اضافہ ہوا، جو عالمی رجحانات سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

متحدہ عرب امارات کی غیر تیل اشیاء کی برآمدات میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جس میں 27.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 561.2 بلین درہم تک پہنچ گئیں۔ غیر تیل تجارت میں برآمدات کا حصہ بھی نمایاں طور پر بڑھا، جو 2023 میں 16.8 فیصد اور 2019 میں 14.1 فیصد کے مقابلے میں 2024 میں 18.7 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس ترقی میں جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں ‘CEPA’ کا اہم کردار رہا، جن کے تحت غیر تیل برآمدات 135 بلین درہم تک پہنچ گئیں، جو 42.3 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسی طرح، دوبارہ برآمدات (ری-ایکسپورٹ) میں بھی 7.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ان کی مجموعی مالیت 734.4 بلین درہم تک جا پہنچی۔ علاوہ ازیں، 2024 میں غیر تیل درآمدات میں بھی 14.2 فیصد کی نمو دیکھی گئی، جس کے بعد ان کی مالیت 1.701 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی۔

2024 میں متحدہ عرب امارات کی اہم برآمدی اشیاء میں سونا، زیورات، سگریٹس، پیٹرولیم مصنوعات، ایلومینیم، کاپر وائر، پرنٹڈ میٹریلز، پرفیوم، اور آئرن مصنوعات شامل تھیں جبکہ اہم درآمدی اشیاء میں سونا، موبائل فون، پیٹرولیم آئل، آٹوموبائل، زیورات، ہیرے اور کمپیوٹرز شامل تھیں۔

متحدہ عرب امارات کی تیز رفتار تجارتی ترقی عالمی سطح پر ملک کے اسٹریٹجک مقام، اقتصادی پالیسیوں اور ‘CEPA’ جیسے تجارتی معاہدوں کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ غیر معمولی کامیابی نہ صرف ملک کے سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ امارات کو عالمی تجارتی اور اقتصادی مرکز کے طور پر مزید بلند مقام پر پہنچانے میں معاون ثابت ہوگی۔