برسلز، 5 فروری 2025 (وام) – یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے بدھ کے روز پولینڈ کی جانب سے 320 ملین یورو (333 ملین امریکی ڈالر) کے جرمانے کے خلاف دائر کردہ شکایت کو مسترد کر دیا، جو کہ 2022 اور 2023 میں عدالتی اصلاحات سے متعلق تنازع کے باعث عائد کیے گئے تھے۔
پولینڈ کی اس وقت کی حکومت عدالتی اصلاحات کے حوالے سے برسلز کے ساتھ تنازع میں الجھی ہوئی تھی، جس پر ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
یہ تنازع نہ صرف پولینڈ کے لیے یورپی یونین کے اربوں یورو کے فنڈز کی بندش کا باعث بنا بلکہ اس پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
2021 میں، یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا کہ پولینڈ کا ججوں کے لیے قائم کردہ انضباطی نظام یورپی قوانین کے مطابق نہیں ہے، اور ورسا کے حکم نہ ماننے پر اس پر روزانہ 1 ملین یورو کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
بعد ازاں، چند اصلاحات متعارف کرانے کے بعد، اس یومیہ جرمانے کو نصف کر دیا گیا۔
یورپی یونین نے یہ جرمانے پولینڈ کو واجب الادا ادائیگیوں سے منہا کرکے وصول کیے، جس پر ورسا نے اعتراض کیا اور یورپی جنرل کورٹ میں اپیل دائر کی، لیکن عدالت نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔
یہ فیصلہ یورپی یونین کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور عدالتی آزادی کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی توثیق کرتا ہے۔