ابوظہبی، 12 فروری 2025 (وام) – ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز نے 2024 کی چوتھی سہ ماہی (Q4) اور سالانہ مالیاتی نتائج کا اعلان کیا، جس کے مطابق کمپنی کی مجموعی آمدنی 3.549 بلین ڈالر (13.035 بلین درہم) تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔
سال 2024 میں کمپنی کی ‘EBITDA’ (خالص عملیاتی آمدنی) 31 فیصد اضافے کے ساتھ 1.149 بلین ڈالر (4.219 بلین درہم) تک پہنچ گئی، جبکہ ‘EBITDA’ مارجن 32 فیصد پر برقرار رہا۔
خالص منافع 22 فیصد بڑھ کر 756 ملین ڈالر (2.777 بلین درہم) ہو گیا، جو فی شیئر 0.10 ڈالر (0.38 درہم) کے برابر ہے۔
چوتھی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی 6 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 881 ملین ڈالر (3.237 بلین درہم) تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، ‘EBITDA’ میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو 282 ملین ڈالر (1.035 بلین درہم) تک پہنچ گیا۔ خالص منافع میں بھی 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 180 ملین ڈالر (660 ملین درہم) تک پہنچ گیا۔
ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز کے سی ای او کیپٹن عبدالکریم المسابی نے کہاکہ،"ہم نے 2024 میں ایک بار پھر اپنے حصص یافتگان کے لیے مالیاتی منافع میں مضبوط اضافہ کیا، جس کی بنیاد ہمارے تمام کاروباری شعبوں کی شاندار کارکردگی ہے۔ اس سال، ہم نے اپنے کاروباری پلیٹ فارم کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینے، نئے جہازوں کے اضافے، اور اپنی مربوط لاجسٹکس خدمات کو وسعت دینے میں سرمایہ کاری کی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، "آج ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز ایک بڑا، مستحکم، اور مزید بین الاقوامی کاروبار بن چکا ہے، جو دنیا کی معروف توانائی میری ٹائم لاجسٹکس کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ 2025 اور اس کے بعد بھی، ہماری ترقی جاری رہے گی، کیونکہ IPO کے بعد سے ہم 6 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جو زیادہ تر طویل مدتی معاہدوں کے تحت ہے۔"
مربوط لاجسٹکس کے شعبے میں 2024 کے دوران نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی، جس کی آمدنی 40 فیصد اضافے کے ساتھ 2.281 بلین ڈالر (8.377 بلین درہم) تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، ‘EBITDA’ میں 30 فیصد اضافہ ہوا، جو 687 ملین ڈالر (2.522 بلین درہم) تک پہنچ گیا۔ اس ترقی کی بنیادی وجوہات میں ‘انٹیگریٹڈ لاجسٹک سروسز پلیٹ فارم’
(ILSP) کے تحت حجم میں اضافہ، آف شور لاجسٹکس سروسز کی توسیع، ‘جی آئی لینڈ’ اور ‘ہیل اینڈ گھاشا’ جیسے EPC منصوبوں میں پیش رفت، اور جیک اپ بارجز (JUBs) کے بہتر استعمال اور کرائے میں اضافہ شامل ہیں۔
'شپنگ' کے شعبے نے بھی 14 فیصد کی آمدنی کے ساتھ 956 ملین ڈالر (3.511 بلین درہم) کا ہدف حاصل کیا، جبکہ EBITDA' 24' فیصد اضافے کے بعد 396 ملین ڈالر (1.456 بلین درہم) تک پہنچ گیا، جس سے ‘EBITDA’ مارجن 41 فیصد ہو گیا۔ اس شعبے کی ترقی میں خشک بلک اور ٹینکرز کے لیے مضبوط چارٹر ریٹس، 2023 میں خریدے گئے چار نئے VLCCs، اور LNG ویسل "شاہامہ" کے بہتر نرخوں پر کنٹریکٹ ہونا شامل ہے۔
'سروسز' کے شعبے میں بھی مستحکم ترقی دیکھی گئی، جہاں آمدنی 10 فیصد بڑھ کر 312 ملین ڈالر (1.147 بلین درہم) تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، ‘EBITDA’ میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جو 56 ملین ڈالر (206 ملین درہم) ہو گیا۔ اس شعبے کی ترقی کی بڑی وجہ پیٹرولیم پورٹس اور آن شور ٹرمینل آپریشنز میں زیادہ حجم تھا، جس نے اس شعبے میں مثبت مالیاتی اثرات مرتب کیے۔