پیرس میں بین الاقوامی کانفرنس: شامی عبوری حکومت کے لیے عالمی حمایت پر زور

پیرس، 14 فروری 2025 (وام) – فرانس میں شام سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں 20 ممالک کے نمائندے، جی 7 اقوام، یورپی یونین، اقوام متحدہ، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے وفود شریک ہوئے۔

یہ اجلاس فرانسیسی وزیر برائے یورپ اور خارجہ امور، جین-نوئل بوروٹ کی سربراہی میں ہوا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی ان مباحثوں میں حصہ لیا۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شامی عبوری حکومت کے جاری عمل کی حمایت کی جائے، تاکہ شامی عوام کی آزادی اور وقار کی خواہشات کو مکمل طور پر پورا کیا جا سکے۔

اعلامیہ کے مطابق، ایک آزاد، متحد، خودمختار، مستحکم اور پُرامن شام کی تشکیل ناگزیر ہے، جو عالمی اور علاقائی برادری میں مکمل طور پر ضم ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 (2015) کے مطابق، انتقالِ اقتدار (Transition Period) کا کامیاب نفاذ ضروری ہے، جس کی قیادت اور ملکیت مکمل طور پر شامی عوام کے پاس ہو۔ ریاستی اداروں کے قیام اور شام کی فوج و سلامتی کے ڈھانچے کی تنظیم نو پر زور دیا گیا، تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اعلامیہ میں 30 جنوری کو صدر احمد الشراع کی جانب سے اعلان کردہ "قومی مکالمہ کانفرنس" کی حمایت کی گئی، جس میں شامی معاشرے کے تمام شعبوں اور بیرونِ ملک مقیم شامی باشندوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔ عبوری انصاف (Transitional Justice) کے فروغ اور ماضی میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مزید برآں، دہشت گرد گروہوں کی دوبارہ سرگرمیوں کو روکنے اور ملک میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ شام میں دشمنی ختم کرنے اور ایک مذاکراتی سیاسی حل کے ذریعے ملک کے اتحاد کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیہ میں شام میں انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لانے، تعمیرِ نو کے اقدامات کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو تسلیم کرنے کی ضرورت کو واضح کیا گیا۔

شامی مہاجرین کی محفوظ اور باوقار وطن واپسی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سلسلے میں، شامی عوام کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کے لیے "طویل مدتی شامی عبوری سپورٹ گروپ" کے قیام پر زور دیا گیا، تاکہ عالمی برادری کے تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔

مزید برآں، پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اور پائیدار واپسی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے اور اقتصادی بحالی کے عمل میں معاونت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق، شام میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو یقینی بنانے کے لیے شامی حکام کی کوششوں کی حمایت ضروری ہے، تاکہ پائیدار استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

کانفرنس کے شرکاء نے زور دیا کہ مضبوط عالمی تعاون ہی شام اور وسیع تر خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔