ابوظبی، 27 فروری 2025 (وام) – مصر کے شہر العریش میں قائم متحدہ عرب امارات کے فلوٹنگ اسپتال نے اپنے پہلے سال کے دوران غزہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو وسیع پیمانے پر طبی سہولیات فراہم کیں۔ اسپتال نے 7,700 سے زائد مریضوں کا علاج، 2,700 سے زیادہ سرجریاں، 3,000 سے زائد فزیوتھراپی سیشن، اور 23 مصنوعی اعضا کی پیوند کاری مکمل کی۔
یہ اسپتال 24 فروری 2024 کو العریش پورٹ میں متحدہ عرب امارات کی انسانی ہمدردی کی مہم "آپریشن الفارس الشهم 3" کے تحت قائم کیا گیا، جس کی ہدایت صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے دی تھی۔
اسپتال میں جدید سرجیکل اور انتہائی نگہداشت (ICU) یونٹس، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ، اور تجربہ گاہیں شامل ہیں، جن میں 100 مریضوں کے لیے بستروں کی گنجائش موجود ہے، جبکہ ان کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں کے لیے بھی 100 اضافی بستر مختص کیے گئے ہیں۔
اسپتال میں اماراتی طبی اور انتظامی عملہ انڈونیشیائی میڈیکل ٹیم کے ساتھ مل کر 24 گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران، اسپتال نے پیچیدہ طبی کیسز پر کامیابی سے علاج کیا، جن میں شدید زخموں کے شکار مریضوں کے لیے لیپروسکوپک سرجری بھی شامل ہیں۔
اسپتال نے اپنی خدمات میں مزید توسیع کرتے ہوئے ایک جدید فزیوتھراپی ڈیپارٹمنٹ قائم کیا، جو روزانہ 15 سرجریاں اور 25 فزیوتھراپی سیشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب تک 3,000 سے زائد فزیوتھراپی سیشنز مکمل کیے جا چکے ہیں، جن سے مریضوں کو نقل و حرکت بحال کرنے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں مدد ملی۔
متحدہ عرب امارات کے فلوٹنگ اسپتال کے ڈائریکٹر، محمد سعید الشحی، نے کہاکہ، "خصوصی طبی ٹیموں اور جدید آلات کی مدد سے ہم ہزاروں مریضوں کا علاج اور درجنوں اہم سرجریاں مکمل کر چکے ہیں۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم اعلیٰ معیار کی طبی اور انسانی امداد فراہم کرتے رہیں، زخمیوں کی تکلیف کو کم کریں اور انہیں صحتیابی کی امید دیں۔"
میڈیکل سروسز کے علاوہ، اسپتال نے سماجی اور تفریحی سرگرمیاں بھی متعارف کرائی ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کا حوصلہ بلند کیا جا سکے۔
اسپتال میں متعدد طبی اور انسانی ہمدردی کے وفود کے ساتھ ساتھ اماراتی اور بین الاقوامی حکام نے دورے کیے، جو اس کے جاری مشن کی حمایت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔