ابوظہبی، 17 مارچ، 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری گزشتہ پانچ دہائیوں سے مختلف شعبوں میں ہم آہنگی اور تعاون پر مبنی ہے، جو دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیتی ہے۔
عزت مآب شیخ طحنون بن زاید النہیان، نائب حکمران ابوظہبی اور قومی سلامتی کے مشیر کا امریکا کا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان روابط اور مکالمے کو مزید مضبوط بنانے کی ایک کڑی ہے، جو مشترکہ مفادات اور عوامی بہبود کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
متحدہ عرب امارات خطے اور عالمی سطح پر امریکا کا ایک کلیدی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک عالمی اور علاقائی سلامتی، اقتصادی خوشحالی، اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی ہے اور جدید شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، غذائی تحفظ، صاف توانائی، خلائی تحقیق، اور سائنسی، تعلیمی و ثقافتی شعبوں میں شراکت داری قائم کی ہے۔
2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارتی حجم 40 بلین امریکی ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ امریکا کے محکمہ تجارت کے مطابق، 2023 میں یہ تجارت 31.45 بلین ڈالر تھی، جو 2024 میں 9.47% اضافے کے ساتھ 34.43 بلین ڈالر (126.46 بلین درہم) تک پہنچ گئی۔
متحدہ عرب امارات نے 2018 سے 2023 کے درمیان امریکا میں تقریباً 3.7 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ اسی عرصے میں امریکی سرمایہ کاری کا حجم 9.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
توانائی کے شعبے میں، ادنوک، مصدر، اور XRG کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے امریکی توانائی مارکیٹ میں 70 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔
2024 میں، دونوں ممالک کے درمیان کئی اسٹریٹجک معاہدے طے پائے، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں۔ اپریل میں، متحدہ عرب امارات کی معروف اے آئی کمپنی G42 اور مائیکروسافٹ نے 1.5 بلین ڈالر کی اسٹریٹجک سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور جدید ڈیجیٹل حلوں کو فروغ دینا تھا۔ جون میں، امریکی کمپنی ورلڈ وائیڈ ٹیکنالوجی (WWT) نے NXT گلوبل کے ساتھ شراکت داری میں مصدر سٹی، ابوظہبی میں پہلا اے آئی انٹیگریشن سینٹر قائم کرنے کا معاہدہ کیا، جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
فروری میں، جی42 اور مائیکروسافٹ نے مشرق وسطیٰ کے پہلے "ریسپانسبل اے آئی انسٹی ٹیوٹ" (RAI) کا آغاز کیا، جو خطے اور عالمی جنوب میں اے آئی کے معیارات اور بہترین عملی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی کے اخلاقی استعمال، شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ ستمبر 2024 میں، متحدہ عرب امارات اور امریکا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک فریم ورک کا اعلان کیا، جس کا مقصد محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی کی ترقی، اخلاقی تحقیق، ضوابط کے قیام، اے آئی سیکیورٹی، سائبر سیکیورٹی، اور صلاحیتوں کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
2021 میں مریخ مشن "ہوپ پروب" کی کامیابی کے بعد، متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ خلائی تعاون کو مزید وسعت دی۔ اس شراکت داری میں "ایمیریٹس مشن ٹو دی ایسٹیرائیڈ بیلٹ" (EMA) شامل ہے، جو یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات ناسا کے لونر گیٹ وے پروگرام میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے تحت یو اے ای ایک مخصوص ایئر لاک ماڈیول تیار کر رہا ہے جو خلابازوں اور سائنسدانوں کے لیے چاند کے مدار میں استعمال ہوگا۔ اس شراکت داری کے تحت، متحدہ عرب امارات 2030 تک اپنا پہلا خلاباز چاند کے مدار میں بھیجے گا، جو خلائی تحقیق میں ایک تاریخی سنگ میل ہوگا۔
ماحولیاتی تحفظ اور صاف توانائی کے فروغ میں یو اے ای-امریکا تعاون ایک بنیادی ستون ہے۔ PACE (صاف توانائی کو تیز کرنے کے لیے شراکت داری) معاہدے کے تحت، دونوں ممالک نے 2035 تک 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور 100 گیگاواٹ صاف توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو دنیا میں پائیدار توانائی کے شعبے میں ایک بڑا اقدام ہے۔ اس کے علاوہ، "موسمیات کے لیے زرعی اختراعی مشن" (AIM4C) کی قیادت امریکا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جس میں 50 سے زائد ممالک اور 500 پارٹنرز شامل ہیں، تاکہ زرعی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کی صاف توانائی کی کمپنی مصدر نے امریکا میں 11 بڑے صاف توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جن میں "Big Beau" اور لاس اینجلس کے قریب بیٹری اسٹوریج پروجیکٹ شامل ہیں۔