جوبا، 20 مارچ 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ جنوبی سوڈان نے بین الاقوامی شرکت کے ساتھ جوبا میں گوروم مہاجر کیمپ کا اعلیٰ سطحی انسانی ہمدردی کا دورہ کیا، تاکہ پڑوسی ممالک میں جاری تنازعات سے فرار ہونے والے مہاجرین، بالخصوص سوڈانی مہاجرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
یہ دورہ اماراتی وزیرِ مملکت شیخ شخبوت بن نہیان النہیان کی قیادت میں کیا گیا، جس میں جنوبی سوڈان کے اعلیٰ حکام اور کئی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی، جن میں ایتھوپیا کی وزیرِ مملکت برتکوان آیانو بھی شامل تھیں۔
دورے کے دوران علاقائی تنظیموں، امدادی اداروں، سفیروں، اور جنوبی سوڈان میں سفارتی مشنز کے اراکین نے شرکت کی، تاکہ مہاجرین کے لیے انسانی امداد کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی حل تلاش کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔ اس موقع پر مہاجر کیمپ کے افراد میں خوراک کے پیکجز بھی تقسیم کیے گئے۔
یہ دورہ زاید ہیومینیٹرین ڈے کے موقع پر منعقد کیا گیا، جو ہر سال رمضان کی 19 تاریخ کو متحدہ عرب امارات میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن ملک کی ہمدردی، بقائے باہمی، اور رواداری کی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ امارات عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنے میں اپنی قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے، جس میں ضرورت مند ممالک کو خوراک اور امدادی سامان کی مسلسل فراہمی شامل ہے۔
7 مارچ 2025 کو، امارات نے جنوبی سوڈان کی شمالی بحر الغزال ریاست میں مدھول فیلڈ اسپتال کا افتتاح کیا، جس کی گنجائش 100 بستروں پر مشتمل ہے اور مختلف خصوصی کلینکس پر مشتمل ہے۔ اسپتال کا مقصد میزبان کمیونٹی، سوڈان سے واپس آنے والے جنوبی سوڈانی شہریوں، اور سوڈانی مہاجرین سمیت تقریباً 20 لاکھ افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ اسپتال امارات کی جانب سے سوڈانی مہاجرین کے لیے قائم کیا گیا تیسرا طبی مرکز ہے، اس سے قبل چاڈ کے شہروں امدجرس اور ابیچی میں بھی فیلڈ اسپتال قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں تقریباً 90,000 افراد کو طبی سہولتیں فراہم کی جا چکی ہیں۔
اس موقع پر شیخ شخبوت بن نہیان نے کہا کہ، "امارات کا انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ، بالخصوص بیماروں، بچوں، بزرگوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت، کے لیے غیر متزلزل عزم اس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ، "امارات نے ایتھوپیا میں ہونے والی سوڈانی عوام کے لیے اعلیٰ سطحی انسانی کانفرنس میں 200 ملین امریکی ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا تھا، جو اس سال سوڈان کے لیے ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس تھی۔ یہ اعلان صرف امداد کی یقین دہانی نہیں بلکہ عالمی برادری کو عملی اقدامات کی دعوت ہے۔"
امارات کی جانب سے اب تک 600.4 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ گزشتہ 10 سالوں میں 3.5 بلین ڈالر کی امداد دی گئی ہے۔ امارات نے سوڈان کے عوام کے لیے 160 طیاروں کے ذریعے امدادی سامان بھیجا اور 12,000 ٹن خوراک، طبی سازوسامان اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیا۔
جنوبی سوڈان کے نائب وزیر داخلہ، منگار بونگ الوونگ نے امارات کے سوڈانی عوام کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا اور کہا کہ، "گوروم مہاجر کیمپ کا اعلیٰ سطحی انسانی دورہ امارات کی عالمی انسانی امدادی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کا ثبوت ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، "ہم سب مہاجرین اور بے گھر افراد کو درپیش شدید مشکلات سے آگاہ ہیں، جو ہر سطح پر فوری انسانی امداد کے منتظر ہیں۔ بدقسمتی سے، سوڈان میں جاری تنازعہ کی وجہ سے کئی مہاجرین رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی خوشیاں نہیں منا سکتے، کیونکہ ان تک بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن نہیں ہو رہی۔"
ایتھوپیا کی وزیر مملکت برتکوان آیانو نے امارات اور جنوبی سوڈان کی اس انسانی دورے کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ، "ہمیں جو کچھ دیکھنے کو ملا، وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہمیں مل کر ان افراد کے لیے کام کرنا ہوگا اور ان کے لیے ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ کس طرح بزرگ، مائیں اور بچے جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور اپنی زندگی کے معمولات کھو چکے ہیں۔"
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی بے گھر افراد کی صورتحال پر توجہ دینی ہوگی۔ آیانو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مہاجرین کی مدد جاری رکھے گا۔
جنوبی سوڈان کے نائب وزیر خارجہ، منڈے سیمیا نے جوبا میں تمام وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے امارات کی امدادی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ، "سوڈان میں جاری تنازعہ کے باعث 11 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور ان کے مصائب کم کیے جا سکیں۔"