دبئی چیمبر آف کامرس نے 2024 میں 4.3 ارب درہم مالیت کے 5,357 اے ٹی اے کارنیٹ جاری و وصول کیے

دبئی، 25 مارچ، 2025 (وام)-- دبئی چیمبر آف کامرس، جو دبئی چیمبرز کے تحت کام کرنے والے تین اداروں میں سے ایک ہے، نے اعلان کیا ہے کہ سال 2024 کے دوران کل 5,357 اے ٹی اے کارنیٹ جاری اور وصول کیے گئے، جن کے تحت درآمد کی جانے والی اشیاء اور سامان کی مجموعی مالیت 4.3 ارب درہم رہی۔

یہ اعداد و شمار دبئی کے نمائشوں، کانفرنسوں اور ایونٹس کے شعبے میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ اے ٹی اے کارنیٹ ان سرگرمیوں سے براہِ راست منسلک ہیں۔

اے ٹی اے کارنیٹ سسٹم عالمی نمائشوں اور تقریبات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سامان کو ایک سال تک ڈیوٹی اور ٹیکس سے مستثنیٰ طور پر عارضی طور پر درآمد کیا جا سکتا ہے، جس سے شرکاء کے لیے شرکت آسان ہو جاتی ہے۔

دبئی چیمبرز میں کمرشل اور کارپوریٹ سروسز کے نائب صدر، خالد الجروان نے کہاکہ، "اے ٹی اے کارنیٹ سسٹم نمائشوں کے لیے سامان کی نقل و حرکت سے متعلق کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دبئی کو عالمی تقریبات کے لیے ایک ممتاز مقام بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔"

یہ نظام دبئی چیمبر آف کامرس، دبئی کسٹمز، فیڈرل کسٹمز اتھارٹی اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کے باہمی تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔

اے ٹی اے کارنیٹ کو 'مرچنڈائز پاسپورٹ' بھی کہا جاتا ہے، جو تاجروں کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی اشیاء کو ایک سال تک مختلف ممالک میں بغیر کسٹمز ڈیوٹی ادا کیے لے جا سکیں۔

اس کے تحت تجارتی نمونوں، پیشہ ورانہ آلات، آڈیوویژوئل ساز و سامان، کمپیوٹرز، مرمتی آلات، طبی مشینری، زیورات، گاڑیاں، موسیقی کے آلات، فن پارے، اور ما قبل تاریخ کی اشیاء جیسے سامان کی عارضی درآمد کی اجازت دی جاتی ہے۔

تاہم، ایسی اشیاء جنہیں استعمال یا مرمت کے بعد تبدیل کیا جانا ہو، یا جو جلد خراب ہو سکتی ہوں، اس نظام کے تحت شامل نہیں ہوتیں۔

اے ٹی اے کارنیٹ، استنبول کنونشن 1990 کے تحت عالمی کسٹمز تنظیم (WCO) کی نگرانی میں وضع کردہ ایک بین الاقوامی معیاری نظام کا حصہ ہے، جو دنیا بھر میں سامان کی عارضی درآمد کو آسان بناتا ہے۔

یہ نظام کاروباری افراد، مارکیٹنگ نمائندوں، اور نمائش میں شریک افراد کو پہلے سے طے شدہ لاگت پر کسٹمز عمل مکمل کرنے، اور ایک ہی دستاویز کے ذریعے متعدد ممالک کا سفر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے کسٹمز کلیئرنس میں آسانی اور وقت کی بچت ممکن ہوتی ہے۔

یہ نظام برآمدکنندگان کو وی اے ٹی اور کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھ کر خاطر خواہ مالی فوائد بھی فراہم کرتا ہے، جبکہ سیکیورٹی ڈپازٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور تمام کسٹمز کارروائیوں کے لیے ایک ہی دستاویز کافی ہوتی ہے۔