ٹریندز ریسرچ کا نئی تحقیق میں انکشاف: ’’مصنوعی ذہانت عالمی سفارت کاری اور تنازعات کے حل کا نیا ذریعہ‘‘

ابوظہبی، 28 مارچ 2025 (وام) – ٹریندز ریسرچ اینڈ ایڈوائزری نے ’’اے آئی پر مبنی سفارت کاری: عالمی تنازعات کے حل میں مصنوعی ذہانت کا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک نئی تحقیق شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح بین الاقوامی مذاکرات اور امن کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیقی جائزہ نور المزروعی نے تحریر کیا ہے، جو ٹریندز میں مصنوعی ذہانت پروگرام کی سربراہ ہیں۔ انگریزی زبان میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت آج کی سفارت کاری، خاص طور پر ڈیٹا تجزیے، بین الاقوامی ابلاغ، اور حکمت عملی کی تشکیل میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق اے آئی کی سب سے بڑی خوبی اس کی بے پناہ معلومات کو تیزی اور درستگی سے پروسیس کرنے کی صلاحیت ہے، جو بین الاقوامی اجلاسوں میں ترجمہ کو بہتر بناتی ہے اور پالیسی سازوں کو عالمی بحرانوں میں بروقت فیصلے لینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

تاہم تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اے آئی سے جُڑی سفارتی کوششوں میں کئی چیلنجز موجود ہیں، جن میں الگورتھم کی جانبداری، کچھ سفارتی ماحول میں ٹیکنالوجی کا غیر مؤثر ہونا، اور حساس معاملات میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اخلاقی تحفظات شامل ہیں۔

تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک تیار کیے جائیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کو امن کے فروغ کے لیے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جا سکے، نہ کہ اسے تنازعات بڑھانے کا ذریعہ بنایا جائے۔

ٹریندز کی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مستقبل کی سفارت کاری میں مصنوعی ذہانت کا کردار مزید گہرا ہو جائے گا، لیکن انسانی فہم و فراست کا عنصر انصاف اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ اہم رہے گا۔

مزید یہ کہ تحقیق میں تجویز کی گئی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات پر اے آئی کے اثرات پر تحقیق کو مزید وسعت دی جائے، اور تمام ممالک کو عالمی استحکام کے لیے اس ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے مشترکہ معیارات طے کرنے پر مل کر کام کرنا چاہیے۔