ابوظہبی وفاقی عدالت: اغوا اور قتل کے مقدمے میں تین افراد کو سزائے موت، ایک کو عمر قید کی سزا

ابوظہبی، 31 مارچ 2025 (وام) – ابوظہبی کی وفاقی اپیل کورٹ کی ریاستی سلامتی چیمبر نے مالدووا-اسرائیلی شہری زوی کوگان کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں چار ملزمان کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ چوتھے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ قتل کا جرم دہشت گردی کے ارادے سے کیا گیا، جو پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے جنوری 2025 میں اس مقدمے کی فوری سماعت کا حکم دیا تھا، جس سے قبل ریاستی سلامتی کے دفتر کی جانب سے کی گئی تفتیش میں یہ ثابت ہوا تھا کہ ملزمان نے مقتول کا تعاقب کیا اور منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں ملزمان کے اعترافات، فرانزک رپورٹس، پوسٹ مارٹم نتائج، واردات میں استعمال ہونے والے آلات اور عینی شاہدین کی گواہیاں شامل تھیں۔

عدالت نے متفقہ طور پر تینوں مرکزی ملزمان کو سزائے موت سنائی، جبکہ چوتھے ملزم کو، جو اس جرم میں معاونت کا مرتکب پایا گیا، عمر قید اور سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدری کی سزا دی گئی۔

متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت سزائے موت کے فیصلے خود بخود اپیل کے لیے وفاقی سپریم کورٹ کے کریمنل ڈویژن کو بھیجے جاتے ہیں، جہاں ان پر نظر ثانی اور فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ فیصلہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے غیر متزلزل عزم، انصاف کے اعلیٰ ترین اصولوں اور قانون کی حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کی تمام ضمانتیں بھی فراہم کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات بقائے باہمی اور رواداری کا عالمی نمونہ ہے، جہاں قانون ہر فرد کی مذہب، نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔