میانمار میں زلزلے سے متاثرہ بچوں کی حالت تشویشناک، یونیسف نے فوری عالمی امداد کی اپیل کر دی

جنیوا، 1 اپریل 2025 (وام) – اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد بچوں کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ یونیسف کے مطابق یہ زلزلہ کئی دہائیوں کے دوران ملک میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا، جس نے پورے کے پورے دیہی علاقے تباہ کر دیے ہیں۔

جنیوا سے ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران یونیسف کی میانمار میں نمائندہ، جولیا ریس نے بتایا کہ ہزاروں بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان میں سے کئی بچے اپنے والدین سے بھی بچھڑ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کے باعث گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور اہم انفرا اسٹرکچر جیسے پلوں اور بجلی کی لائنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، خوراک، ادویات، پناہ اور مواصلاتی ذرائع ناپید ہو چکے ہیں۔ آفٹر شاکس جاری ہیں اور ریسکیو آپریشن تاحال مکمل نہیں ہوا۔

یونیسف نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی امداد کی ترسیل شروع کر دی ہے اور عالمی ذخائر سے مزید 80 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، جولیا ریس کا کہنا تھا کہ موجودہ وسائل ضروریات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یونیسف کو میانمار میں بچوں کے لیے 2025 کی انسانی ہمدردی کی اپیل کے تحت اب تک صرف 10 فیصد سے بھی کم فنڈ موصول ہوئے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر انتہائی ناکافی ہے۔