میانمار زلزلہ: اقوامِ متحدہ کا ممکنہ صحت بحران پر انتباہ، صاف پانی، ادویات اور فنڈز کی شدید کمی

میانمار، 2 اپریل 2025 (وام) – اقوام متحدہ کے حکام نے گزشتہ جمعے میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد ممکنہ صحت بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق، زخمی یا لاپتا ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے میانمار میں نمائندہ ڈاکٹر فرنینڈو تھشارا نے بتایا کہ اسپتالوں میں طبی سامان کم ہوتا جا رہا ہے، بجلی کی فراہمی متاثر ہے، اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے اسپتالوں کے جنریٹرز بھی بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس سے طبی سہولیات مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

ڈاکٹر تھشارا نے کہاکہ، "اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صاف پانی اور صفائی کی عدم دستیابی سے متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔"

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ امدادی کارروائیاں مالی وسائل کی کمی اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی ڈپٹی نمائندہ، جولیا ریس نے خبردار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں ہر گھنٹے کے ساتھ ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ، "پورے کے پورے دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ بچے اور خاندان کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔"

جولیا ریس نے مزید کہاکہ، "زندگیاں بچانے کے لیے ہماری مہلت ختم ہوتی جا رہی ہے۔" انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، اور امدادی ٹیمیں بھی بجلی، صفائی اور بنیادی سہولیات کے بغیر کھلے میدانوں میں کام کر رہی ہیں۔