ابوظہبی، 2 اپریل 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات نے گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) رپورٹ 2024/2025 میں مسلسل چوتھے سال دنیا بھر میں پہلا مقام حاصل کر لیا ہے، جو کاروباری ماحول اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے عالمی سطح پر بہترین ملک کے طور پر اس کی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
رواں سال گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر رپورٹ میں شامل 56 معیشتوں کے جائزے کی بنیاد پر، امارات کو اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں 13 میں سے 11 کلیدی اشاریوں میں پہلا مقام حاصل ہوا۔
جن شعبوں میں متحدہ عرب امارات نے عالمی سطح پر نمایاں برتری حاصل کی، ان میں کاروباری مالی معاونت، سرمایہ تک آسان رسائی، حکومت کی کاروباری پالیسی، ٹیکس اور بیوروکریسی سے متعلق پالیسیاں، اور سرکاری سطح پر کاروباری پروگرامز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکول اور اعلیٰ تعلیم کی سطح پر انٹرپرینیورشپ کی تعلیم، تحقیق و ترقی (R&D) کی مؤثر منتقلی، تجارتی اور پیشہ ورانہ انفرااسٹرکچر کی دستیابی، ضوابطی رکاوٹوں سے پاک مارکیٹ تک آسان رسائی، اور کاروباری ثقافت و سماجی اقدار جیسے عناصر بھی شامل ہیں، جنہوں نے متحدہ عرب امارات کو کاروباری ماحول کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے انٹرپرینیورشپ، عالیہ بنت عبداللہ المزروعی نے کہا کہ یہ کامیابی قیادت کی دور اندیشی اور ملک میں ایک مربوط کاروباری ماحول قائم کرنے کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امارات کا مسلسل چوتھی بار دنیا میں کاروبار کے لیے بہترین ملک کے طور پر تسلیم کیا جانا اس کے علاقائی و عالمی مقام کو مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امارات جدید معیشت، ڈیجیٹل شعبے، اور اسٹارٹ اپس کے فروغ کے لیے عالمی معیار کی پالیسیوں، مالی معاونت، اور جدید حل فراہم کر رہا ہے، جو "وی دی یو اے ای 2031" وژن کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امارات میں کاروباری ماحول حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں، انوکھے سرکاری اقدامات، اور مسابقتی سرمایہ کاری کے ماحول کی بدولت مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ "پروجیکٹس آف دی 50" اقدام کے تحت SMEs اور انوویشن کے فروغ کے لیے 8.7 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ بھی امارات کی کاروباری کامیابی میں اہم عوامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں کاروباری ثقافت نہایت بیدار اور بلند حوصلگی کی حامل ہے۔ ملک کے 67 فیصد بالغ افراد یا تو کسی کاروباری فرد کو جانتے ہیں یا خود کاروبار شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد اماراتی شہریوں کا ماننا ہے کہ وہ مقامی سطح پر کاروبار کے لیے بہترین مواقع دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 78 فیصد نئے کاروباری افراد منافع کے بجائے اپنے کاروبار کے سماجی اور ماحولیاتی اثر کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
مزید برآں، 75 فیصد ابتدائی درجے کے کاروباری افراد اگلے پانچ برسوں میں اپنی ٹیموں میں کم از کم چھ افراد کا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 80 فیصد افراد اپنے کاروبار میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 55 فیصد کاروباری افراد اپنی مصنوعات یا خدمات متحدہ عرب امارات سے باہر کے صارفین کو فراہم کر رہے ہیں، جو ملک کی عالمی سطح پر کاروباری رسائی کی عکاسی کرتا ہے۔