غزہ، 3 اپریل 2025 (وام) – اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے کمشنر جنرل، فلپ لزارینی نے تصدیق کی ہے کہ آج شمالی غزہ کے جبالیہ علاقے میں اسرائیلی افواج کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کی ایک عمارت کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے اپنے سرکاری X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بتایا کہ متاثرہ عمارت ماضی میں ایک طبی مرکز تھی، جو جنگ کے دوران پہلے ہی شدید نقصان کا شکار ہو چکی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت عمارت میں 700 سے زائد بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ جاں بحق ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل ہیں، جن میں دو ہفتے کا ایک نومولود بھی شامل ہے۔
لزارینی نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے پاس اور کوئی جائے پناہ نہیں، اسی لیے حملے کے بعد بھی وہ اسی عمارت میں ٹھہرے رہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 300 سے زائد اقوامِ متحدہ کی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، حالانکہ ان تمام عمارتوں کے محلِ وقوع کی تفصیلات متحارب فریقوں کو باقاعدگی سے فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ اب تک اقوامِ متحدہ کی پناہ میں رہتے ہوئے 700 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ، "بدقسمتی سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کی بہت سی عمارتوں کو فلسطینی مسلح گروہوں، بشمول حماس، یا اسرائیلی افواج کی جانب سے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے عملے، دفاتر یا آپریشنز کی مکمل طور پر نظراندازی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"
فلپ لزارینی نے ایک بار پھر ان حملوں اور سنگین خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہاکہ، "غزہ میں تمام حدیں بار بار پار کی جا چکی ہیں۔"