اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی غزہ میں ہلاکتوں پر شدید تشویش

نیویارک، 3 اپریل 2025 (وام) – اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بدھ کے روز روزانہ کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی شیلنگ اور زمینی کارروائیوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور صرف گزشتہ دو دنوں میں رفح سے ایک لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر پہلے ہی کئی بار بے گھر ہو چکے تھے۔

گوٹریش نے 23 مارچ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے طبی اور امدادی قافلے پر حملے، جس میں 15 طبی و انسانی ہمدردی کے کارکن شہید ہوئے، پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق طبی، امدادی اور ہنگامی کارکنوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا چاہیے، اور جان بچانے والی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔

ترجمان کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 408 امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ کے 280 عملے کے افراد شامل ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے ان تمام امدادی کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اس تنازع میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، اور ان واقعات کی مکمل، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

گوٹریش نے ایک بار پھر 7 اکتوبر 2023 کے حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دہشت گرد حملوں یا فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی، اور غزہ میں بلارکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی۔

جب ان سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مزید زمین پر کنٹرول کے اعلان سے متعلق سوال کیا گیا تو ترجمان نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 (2024) کا حوالہ دیا، جس میں غزہ کی سرزمین میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا علاقائی تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کیا گیا ہے۔

گوٹریش نے اس بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز بیانیے پر بھی تشویش ظاہر کی جس میں اسرائیلی افواج کو "وسیع علاقے پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کے سکیورٹی زون میں شامل کرنے" پر اکسانے کی بات کی جا رہی ہے۔