توانائی کے شعبے میں 36 ارب درہم کی سرمایہ کاری: ابوظہبی میں نئے منصوبے، کم کاربن مستقبل کی جانب اہم قدم

ابوظہبی، 3 اپریل 2025 (وام) – ابوظہبی نیشنل انرجی کمپنی (طاقہ) اور امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی نے متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت کی قومی حکمتِ عملی 2031 اور نیٹ زیرو 2050 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے توانائی کے نئے انفراسٹرکچر منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

اس اہم اشتراک کے تحت طاقہ نے امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی کے ساتھ 24 سالہ معاہدے (پاور پرچیز ایگریمنٹ
- PPA) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ ایک گیگا واٹ صلاحیت کا "الظفرہ اوپن سائیکل گیس ٹربائن (OCGT)" منصوبہ مکمل طور پر تعمیر، ملکیت اور آپریٹ کرے گی۔

طاقہ نہ صرف اس منصوبے کی مکمل مالک ہو گی بلکہ اس کی دیکھ بھال اور آپریشن کی ذمہ داری بھی خود نبھائے گی۔ اس کے علاوہ، طاقہ گروپ کا ذیلی ادارہ "طاقہ ٹرانسمیشن" جدید پاور گرِڈ انفراسٹرکچر تیار کرے گا تاکہ توانائی کی اضافی پیداوار کو قابلِ بھروسا اور کم کاربن ذرائع تک منتقل کیا جا سکے۔

یہ منصوبے امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی اور مصدر کے حالیہ اعلان کردہ دنیا کے پہلے منصوبے کی معاونت کریں گے، جس کے تحت 24 گھنٹے، ساتوں دن قابلِ تجدید توانائی کی مسلسل فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ یہ منصوبہ شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کا دنیا کا سب سے بڑا مشترکہ نظام ہوگا، جو روزانہ ایک گیگا واٹ بیس لوڈ توانائی فراہم کرے گا۔

طاقہ، امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی اور مصدر کے اس اشتراک سے ابوظہبی میں توانائی کے شعبے میں 36 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس میں سے تقریباً 75 فیصد سرمایہ کاری قابلِ تجدید اور روایتی بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں کی جائے گی، جب کہ باقی 25 فیصد گرِڈ انفراسٹرکچر پر خرچ کیا جائے گا۔

طاقہ کے گروپ سی ای او اور مصدر کے نائب چیئرمین، جاسم ثابت نے کہا، "کم کاربن توانائی کی فراہمی دنیا بھر میں توانائی کی منتقلی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہم یو اے ای میں صاف توانائی کے حل کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، اور ہر وقت قابلِ بھروسا اور کم کاربن توانائی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔"

امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی کے سی ای او، احمد علی الشامسی نے کہاکہ، "ہم طاقہ کے ساتھ ان منصوبوں پر شراکت داری پر فخر محسوس کرتے ہیں جو نہ صرف مصنوعی ذہانت کے اہداف کو توانائی فراہم کریں گے بلکہ ملک کے توانائی کے نظام کو بھی جدید اور پائیدار بنائیں گے۔"