اقوامِ متحدہ: ترقی پذیر ممالک مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے، فوری سرمایہ کاری کی ضرورت

جنیوا، 3 اپریل 2025 (وام) — اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مارکیٹ ویلیو 2033 تک 4.8 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اور یہ ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک مرکزی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ تاہم، اس شعبے تک رسائی اور مہارت چند گنے چنے ممالک تک محدود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی سیکریٹری جنرل ربیکا گرینسپن نے ایک بیان میں کہاکہ، "ترقی پذیر ممالک میں سے ایک تہائی سے بھی کم کے پاس مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملیاں موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت دنیا کے معاشی مستقبل کو تشکیل دے رہی ہے، لیکن عالمی جنوب کے 118 ممالک اس حوالے سے ہونے والی بڑی بین الاقوامی پالیسی گفتگو میں شامل ہی نہیں۔"

رپورٹ میں ترقی پذیر معیشتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا، اور مہارتوں پر فوری طور پر سرمایہ کاری کریں۔

"ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن رپورٹ 2025" میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت ترقی کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ خودکار طور پر سب کے لیے مساوی فوائد نہیں لاتا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ممالک کو اب اقدام کرنا چاہیے — یعنی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، مقامی صلاحیتوں کی تعمیر، اور مصنوعی ذہانت کے موثر نظم و نسق کو فروغ دینا — تاکہ پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی سربراہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے مرکز میں "انسان" ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک مشترکہ عالمی مصنوعی ذہانت کا فریم ورک تیار کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ٹیکنالوجی کا محور انسان رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ صرف 100 کمپنیاں — جن میں اکثریت امریکہ اور چین کی ہے — دنیا بھر میں کارپوریٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے 40 فیصد اخراجات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایپل، این ویڈیا، اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو رکھتی ہیں، جو کہ پورے افریقی براعظم کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے برابر ہے۔

مزید یہ کہ رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت صرف ملازمتوں کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ نئی صنعتیں پیدا کر سکتا ہے اور کارکنوں کو بااختیار بنا سکتا ہے۔ مؤثر مصنوعی ذہانت پالیسیوں کے لیے ممالک کو تین اہم شعبوں — بنیادی ڈھانچہ، ڈیٹا، اور مہارت — پر توجہ دینی چاہیے۔ ان میں حکمتِ عملی کے ساتھ پیش رفت ہی یہ طے کرے گی کہ کوئی ملک مصنوعی ذہانت کو کس حد تک مؤثر طریقے سے اپنا سکتا ہے، مقامی جدت کو فروغ دے سکتا ہے، اور اپنی سماجی و معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ترقی حاصل کر سکتا ہے۔