ابوظبی، 25 اپریل، 2025 (وام) -- اقوامِ متحدہ میں بچوں کی خرید و فروخت، جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق نمائندہ خصوصی ماما فاطمہ سنگاتے نے بچوں کے تحفظ کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حکمتِ عملی اور تیاری کو سراہا ہے۔
ابوظبی کے سینٹ ریجس ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ، ’’میں حکومتی نمائندوں کی بہترین تعاون پر شکر گزار ہوں۔ میں اُن تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے بامقصد شرکت کی، اور مجھے ان اضافی اعدادوشمار کا انتظار ہے جو میں نے مانگے ہیں۔‘‘
سنگاتے نے 14 سے 24 اپریل کے درمیان اپنے دورۂ امارات کے دوران ساتوں امارات—ابوظبی، دبئی، راس الخیمہ، عجمان، اُم القیوین، شارجہ اور فجیرہ—کا دورہ کیا۔ اس دوران اُنہوں نے وفاقی و مقامی حکام، پولیس، عدلیہ، سول سوسائٹی، سروس فراہم کنندگان اور بچوں سے ملاقاتیں کیں۔
وام نیوز ایجنسی کے سوال پر انہوں نے کہاکہ، ’’میری مختلف وزارتوں اور اداروں کے حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ میرے مجموعی تاثرات کافی مثبت رہے۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ میری آمد سے پہلے کی گئی تفصیلی اور مربوط تیاری تھی۔ حکام نہ صرف تجاویز کے لیے تیار تھے بلکہ انہوں نے بھرپور بریفنگز بھی دیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ، ’’میں نے ان اجلاسوں میں مختلف تجاویز پیش کیں تاکہ پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ میں نے ایک واضح ارادہ محسوس کیا کہ حکام رائے سننے اور بہتر راہیں تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بچوں کے تحفظ کا کوئی مکمل نظام نہیں ہوتا، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ بہتری کے لیے کھلے دل سے تجاویز کو قبول کیا جائے۔‘‘
اپنی ابتدائی مشاہدات اور دورے کے اختتامی بیان میں انہوں نے کہا، ’’میرے پیشرو کے 2009 میں کیے گئے دورے کے بعد سے، امارات نے بچوں کے حقوق اور تحفظ کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ان 16 برسوں میں بہت سی مثبت پیش رفت دیکھی گئی ہے، جو سابقہ سفارشات سے ہم آہنگ ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ امارات نے 2016 میں بچوں کی خرید و فروخت، جسم فروشی اور فحش مواد کے خلاف اقوامِ متحدہ کے اختیاری پروٹوکول کی توثیق کا عمل مکمل کیا، جو ان کے مینڈیٹ کی بنیاد ہے۔
اسی سال وفاقی قانون نمبر 3 (ودیمہ کا قانون) نافذ کیا گیا، جو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانون ہے اور ملک کے قانون سازی نظام میں ایک اہم سنگِ میل مانا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ، ’’میرے پیشرو کے دورے کے بعد امارات میں بچوں کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط نظام تشکیل دیے گئے ہیں۔‘‘
دورے کے دوران انہوں نے ابوظبی میں چلڈرن سینٹر، دبئی فاؤنڈیشن برائے خواتین و اطفال، راس الخیمہ میں امان شیلٹر، عجمان میں حماۓ فاؤنڈیشن، اور شارجہ میں کناف سینٹر جیسے متعدد امدادی اداروں کا معائنہ کیا۔
سنگاتے نے 2020 میں اماراتی بچوں کی پارلیمنٹ کے قیام اور وزارتِ خاندان کے قیام کو بھی سراہا، جو ماں اور بچے کی فلاح کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ کونسل کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔