العریش، 26 اپریل، 2025 (وام) — ’’آپریشن الفارس الشهم 3‘‘ نے جنوبی غزہ کی مقامی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر پانی کے کنویں کھودنے کی ایک نئی انسانی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ شدید پانی کی قلت سے پیدا ہونے والے بحران کو کم کیا جا سکے۔
یہ فوری اقدام انسانی بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے تاکہ بحران کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے، تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ عارضی حل ہیں اور غزہ میں جاری انسانی تباہی کا مستقل حل نہیں۔
یہ پہل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب غزہ کی گزرگاہیں بند ہیں اور خوراک اور ایندھن کی ترسیل روکی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پانی صاف کرنے والے اسٹیشنز بھی بند ہو چکے ہیں اور اہم بنیادی ڈھانچے کا نظام تباہی کا شکار ہے۔
اسی سلسلے میں، انسانی امدادی مشن نے جنوبی غزہ کے کیمپوں اور پناہ گاہوں میں مقامی مارکیٹ کے ذریعے فوڈ کچنز اور عارضی بیکریوں کی مدد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو کم از کم خوراک کی فراہمی یقینی بنانا اور انتہائی خراب انسانی حالات میں ان کی تکلیف کو کم کرنا ہے۔