غزہ میں سات ہفتوں سے امدادی سامان کی بندش، اقوام متحدہ نے بدترین انسانی بحران سے خبردار کر دیا

غزہ، 29 اپریل، 2025 (وام) — اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) کے میڈیا دفتر نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ غزہ میں سات ہفتوں سے کوئی انسانی یا تجارتی سامان داخل نہیں ہو سکا۔

اونروا کے مطابق تمام گزرگاہوں کی بندش نے اکتوبر 2023 کے بعد غزہ کو بدترین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ادارے نے زور دے کر کہا کہ یہ جنگ کے آغاز سے اب تک امداد کی سب سے طویل معطلی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، صاف پانی، پناہ اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ مسلسل محاصرے کی وجہ سے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔
کئی اہم طبی اشیاء پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں، اور اندازہ ہے کہ آئندہ ہفتوں میں مزید قلت کا سامنا ہو گا۔

اونروا کے مطابق صرف 57 فیصد ضروری ادویات ایسی ہیں جن کی مقدار ایک ماہ یا اس سے کم کے لیے کافی ہے۔
طبی خدمات شدید وسائل کی کمی کا شکار ہیں، اور اندازہ ہے کہ دو تہائی ضروری طبی اشیاء آئندہ دو ماہ میں ختم ہو جائیں گی۔

ادارے نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی ناکہ بندی جنوبی غزہ سے شمالی غزہ تک امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، جس سے انسانی امداد کی کارروائیاں مزید متاثر ہو رہی ہیں۔

ان شدید رکاوٹوں کے باوجود اونروا غزہ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس وقت نو ہیلتھ سینٹرز اور 39 طبی پوائنٹس کے ذریعے روزانہ تقریباً 16,000 میڈیکل مشاورتیں فراہم کر رہا ہے، جو غزہ میں تمام طبی اداروں میں سب سے زیادہ ہیں۔