متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل ناکام، سوڈانی فوج سے منسلک نیٹ ورک بے نقاب

ابوظبی، 30 اپریل، 2025 (وام) — متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے سوڈانی مسلح افواج کو غیر قانونی طور پر ہتھیاروں اور عسکری سامان کی ترسیل کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

بیان کے مطابق، سیکیورٹی اداروں نے ان افراد کو گرفتار کیا جو عسکری ساز و سامان کی ثالثی، سودے بازی اور غیر قانونی ترسیل میں ملوث تھے۔ ملزمان کو ایک نجی طیارے کی تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا جو ایک اماراتی ہوائی اڈے پر اترا تھا۔ طیارے سے (54.7x 62mm) گوریونوف قسم کے تقریباً 50 لاکھ راؤنڈز برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ، دو مشتبہ افراد کے ہوٹل کمروں سے اس معاہدے سے حاصل شدہ مالی رقوم بھی ضبط کی گئیں۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ اس نیٹ ورک میں سوڈانی فوج کے کئی سابق اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں، جن میں سابق انٹیلیجنس چیف صلاح قوش، ان کے سابق چیف آف اسٹاف خالد یوسف مختار یوسف، ایک سابق وزیر خزانہ کا مشیر، اور جنرل عبدالفتاح البرہان و ان کے نائب یاسر العطا کے قریبی سیاسی رابطے شامل ہیں۔ متعدد سوڈانی تاجر بھی اس نیٹ ورک کا حصہ پائے گئے۔

نیٹ ورک نے کلاشنکوف، مشین گنز، دستی بموں اور گولہ بارود پر مشتمل عسکری معاہدہ مکمل کیا۔ یہ اسلحہ سوڈانی فوج کو ایک درآمدی کمپنی کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس میں ہوالہ دار کے ذریعے رقوم کی ادائیگی کی گئی۔ یہ کارروائی ایک مفرور شخص کی کمپنی کے ذریعے انجام دی گئی جو کرنل عثمان الزبیر کی مالی نگرانی میں سوڈانی مسلح افواج کے لیے کام کر رہا تھا۔ جعلی معاہدوں اور تجارتی رسیدوں کے ذریعے ان سودوں کو چینی کی درآمد کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کی منظوری سوڈانی فوج کے اسلحہ کمیٹی نے دی، جس کی سربراہی البرہان اور ان کے نائب العطا کر رہے ہیں، جبکہ کاغذی کارروائی کی توثیق احمد ربیع احمد السید نے کی، جو سوڈانی کمانڈر انچیف سے منسلک سیاسی شخصیت ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صلاح قوش نے امارات میں غیر قانونی عسکری سامان کی اسمگلنگ میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ان دو معاہدوں سے مجموعی طور پر 2.6 ملین امریکی ڈالر کا منافع حاصل کیا گیا، جو نیٹ ورک کے افراد اور ان کے ساتھیوں میں تقسیم ہوا۔

یہ طیارہ طبی سامان کی کھیپ کے طور پر امارات میں داخل ہوا تھا، لیکن تلاشی کے دوران اس میں عسکری ساز و سامان پایا گیا۔ یہ کارروائی اٹارنی جنرل کے جاری کردہ عدالتی وارنٹ کے تحت عمل میں آئی۔

حکام نے جعلی معاہدے، جعلی شپنگ دستاویزات، اور نیٹ ورک کے درمیان صوتی و تحریری پیغامات بھی ضبط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی ایسی کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں جو ایک سوڈانی-یوکرینی کاروباری شخصیت کی ملکیت میں ہیں، جن میں سے ایک امارات میں کام کر رہی ہے اور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ان کمپنیوں کے ذریعے سوڈانی فوج کو اسلحہ، دستی بم، گولہ بارود اور ڈرونز فراہم کیے جا رہے تھے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیٹ ورک کے مالی مفادات سوڈان میں جاری داخلی تنازع کے تسلسل سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹر الشامسی نے زور دیا کہ یہ واقعہ نہ صرف امارات کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ ملک کی سرزمین کو غیر قانونی اسلحہ ترسیل کا ذریعہ بنانے کی کوشش بھی ہے، جو ملکی قوانین کے تحت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک پراسیکیوشن تحقیقات کو مکمل کر رہی ہے اور مقدمہ جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔