مصنوعی ذہانت کو نصاب میں شامل کرنا مستقبل کی قیادت تیار کرنے کی جانب اہم قدم ہے: شیخ عبداللہ بن زاید

ابوظہبی، 4 مئی، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم، وزیرِ خارجہ اور تعلیمی، انسانی اور سماجی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین، عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے مطابق سرکاری تعلیمی نصاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کا شامل کیا جانا متحدہ عرب امارات کی مستقبل بین تعلیمی سوچ کا ایک اسٹریٹیجک سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس عزم کا مظہر ہے کہ ہم آئندہ نسلوں کو آج ہی ان اوزاروں سے لیس کر رہے ہیں جن کی انہیں کل کے متحرک اور تیزرفتار دنیا میں کامیابی کے لیے ضرورت ہوگی۔

کونسل کے چیئرمین نے واضح کیا کہ دنیا جس تیزی سے تبدیلی کا سامنا کر رہی ہے، اس ماحول میں ٹیکنالوجی نہ صرف ترقی کی بنیاد بلکہ موجودہ دور کی زبان بن چکی ہے۔ ان کے بقول، متحدہ عرب امارات کا مقصد صرف تکنیکی مہارتیں پیدا کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کو اخلاقی اور ثقافتی شعور کے ساتھ ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا بھی ہے۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ یہ ہمارا اجتماعی فرض ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ مستقبل کی دنیا میں قیادت کے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کو عمومی تعلیم کے نصاب میں شامل کرنا نہ صرف تعلیمی نظام کی جدت کی علامت ہے بلکہ یہ یو اے ای کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جو تعلیم کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اماراتی قیادت کی کوشش ہے کہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں گہرا فہم فراہم کیا جائے — جس میں نہ صرف تکنیکی پہلو بلکہ اخلاقی اقدار، ثقافتی حساسیت اور سماجی ذمہ داری کا ادراک بھی شامل ہو۔

اختتاماً انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں قیادت محض ایک ہنر نہیں بلکہ ایک ذہن سازی اور قومی ترجیح ہے، جس کے لیے تعلیم، شعور، اور ایک مضبوط اخلاقی بنیاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو صرف مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہی نہیں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ خود مستقبل کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کریں۔