دبئی، 5 مئی، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے اتحاد کی 49ویں سالگرہ ایک اہم قومی موقع ہے جو نئی نسلوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس تاریخی سنگِ میل کی اہمیت کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ 6 مئی 1976 کو متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان اور ان کے ہمراہ دیگر حکمرانوں نے متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے اتحاد کا فیصلہ کرکے اتحاد کے ڈھانچے کو مکمل کیا، اور ملک کے تحفظ، امن و استحکام کے لیے ایک مؤثر دفاعی ڈھال قائم کی۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا،
"اے میرے وطن کے بیٹو اور بیٹیو، اور ہماری مسلح افواج کے بہادر افسران و جوانو!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
میں آپ سب کو اس عظیم قومی دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو ہماری مسلح افواج کے اتحاد کی 49ویں سالگرہ ہے۔ آج ہم اپنے ملک کی بے شمار نعمتوں، اپنی قیادت کی بصیرت، اور اماراتی ماڈل کی کامیابیوں کے شکر گزار ہیں جو ترقی، انسانی ہمدردی اور امن کی علامت ہے۔"
انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے بانیوں کی حکمت، اخلاص اور دور اندیشی کو یاد کرتے ہیں، جن میں شیخ زاید بن سلطان النہیان، شیخ راشد بن سعید المکتوم، اور دیگر سپریم کونسل اراکین شامل ہیں، جنہوں نے قومی اتحاد کی بنیاد رکھی۔
شیخ محمد نے کہا کہ جب 1976 میں افواج کے اتحاد کا فیصلہ ہوا، تو ریاستِ اتحاد کی تشکیل کو صرف پانچ سال گزرے تھے۔ اس وقت وفاقی ریاست کا تصور خطے میں نیا تھا۔ محدود قومی افرادی قوت، فوجی نظاموں میں تفاوت، اور اسلحہ جات کے مختلف ذرائع جیسے چیلنجز کے باوجود بانی قیادت نے ہمت اور عزم کے ساتھ ان مسائل پر قابو پایا۔
انہوں نے کہاکہ، "ہمارے بانیوں نے جس حکمت عملی سے ان چیلنجز کو عبور کیا، اس نے ایک ایسا قومی فوجی نظام تشکیل دیا جو نہ صرف بہترین اسلحے سے لیس ہے بلکہ افرادی قوت اور تنظیم کے اعتبار سے بھی مثالی ہے۔"
شیخ محمد نے کہا کہ گزشتہ 49 برسوں میں ہماری افواج نے مسلسل تربیت، منصوبہ بندی، اور جدید علم کے حصول کے ذریعے جدید ترین عسکری نظاموں میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے دفاعی صنعت میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو نہ صرف خود کفالت کی جانب پیش رفت ہے بلکہ قومی معیشت کے تنوع اور سائنسی ترقی میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔
"ہماری دفاعی صنعت نے کئی اقسام کے اسلحہ جات میں خود کفالت حاصل کی، اور اس کے نتیجے میں خلائی ٹیکنالوجی، جوہری توانائی، صاف توانائی، مصنوعی ذہانت اور سرکاری نظم و نسق جیسے شعبوں میں قومی صلاحیتیں فروغ پائیں۔"
انہوں نے قومی اور ریزرو سروس کے نوجوانوں، سیکیورٹی اداروں اور مسلح افواج کے تمام ارکان کو سلام پیش کیا اور ان کی وفاداری، ایثار اور قربانیوں کو سراہا۔
اسی ضمن میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کےصدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی 45 سالہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی نگرانی، وژن اور منصوبہ بندی نے مسلح افواج کو موجودہ اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔
شیخ محمد بن راشد نے "واحة الکرامہ"، شہداء کی یادگار اور شہداء کے اہلِ خانہ کے دفتر جیسے اقدامات کو عوام اور قیادت کے درمیان گہرے ربط کی علامت قرار دیا۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہاکہ، "میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ صدر مملکت اور اعلیٰ کونسل کے اراکین کی کاوشوں کو قبول فرمائے، ہماری سرزمین کو محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنے وطن کی مزید بلندیوں کی طرف گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔"