ابوظہبی، 6 مئی 2025 (وام)-- نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی امور کے دفتر کے چیئرمین، عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان کی سرپرستی میں ابوظہبی میں "گورننس آف ایمرجنگ ٹیکنالوجیز سمٹ (GETS 2025)" کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ خطے کا اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے، جس کا اہتمام ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل (ATRC) نے متحدہ عرب امارات کی پبلک پراسیکیوشن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں کیا ہے۔ سمٹ کا مقصد پالیسی سازوں، قانونی ماہرین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور نوجوان قیادت کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں ابھرتی ہوئی نئی ٹیکنالوجیز کے شفاف، اخلاقی اور ذمہ دارانہ نظم و نسق کے لیے جامع فریم ورک تیار کیے جا سکیں۔
سمٹ کے پہلے روز 20 سے زائد ممالک سے 1,000 سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی، جن میں وزراء، عالمی شہرت یافتہ جج، اور اعلیٰ سطحی قانونی وفود شامل تھے، جن میں قطری، مصری اور عمانی اٹارنی جنرلز قابل ذکر ہیں۔ افتتاحی سیشن کے دوران اہم موضوعات جیسے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات، سرحد پار ڈیٹا گورننس، سائبر سیکیورٹی، اور پوسٹ کوانٹم سیکیورٹی زیرِ بحث آئے۔ خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر حمد سیف الشامسی (اٹارنی جنرل یو اے ای)، فیصل البنّی (صدر کے مشیر برائے تحقیق و جدید ٹیکنالوجی)، ڈاکٹر سلطان النيادی (وزیر مملکت برائے امورِ نوجوانان)، اور ڈاکٹر محمد الکویتی (سربراہ یو اے ای سائبرسیکیورٹی کونسل) شامل تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر حمد الشامسی نے کہا کہ "اخلاق کے بغیر جدت نامکمل ہے، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو صرف ترقی کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے اعلیٰ مقاصد کے تحت بروئے کار لایا جانا چاہیے۔" فیصل البنّی نے اپنے مکالمے میں اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف نئی مصنوعات جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کے اثرات کے حوالے سے پالیسی سازوں اور ماہرین کے ساتھ مسلسل شراکت داری کو یقینی بنائیں۔
سمٹ میں نوجوانوں کے کردار، خودکار نظاموں کے چیلنجز، ڈیجیٹل حقوق، اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا پر ممکنہ اثرات پر بھی گہرا مکالمہ ہوا۔ ماہرین نے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، ٹیکنالوجی ڈویلپرز اور معاشرے کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا تاکہ ایک محفوظ، بااعتماد اور منصفانہ ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔
سمٹ کے دوران ایک کلیدی سیشن "ویژن سے اختیار تک: جسٹس 2030 کا روڈ میپ" کے عنوان سے پیش کیا گیا، جس میں چانسلر سالم علی الزعابی نے یو اے ای پبلک پراسیکیوشن کی 2025–2030 مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی پیش کی۔ یہ حکمت عملی نظامِ انصاف میں ڈیجیٹل جدت اور سمارٹ گورننس کے فروغ پر مبنی ہے اور اسے پیشگوئی پر مبنی اور فعال عدالتی نظام کی طرف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔
ٹینڈر ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کی علمی شراکت سے جاری کردہ ابتدائی عالمی سفارشات میں متعدد اہم نکات شامل تھے، جن میں انسانی اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلقات کے لیے ایک عالمی منشور کی تشکیل، نوجوانوں کو ڈیجیٹل گورننس میں بااختیار بنانے، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل اعتماد کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے، اور قانونی فریم ورک کو تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رکھنے پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ، سمٹ میں پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی، ڈیٹا انکرپشن، اور ابتدائی ڈیٹا آڈٹس جیسے موضوعات پر بھی توجہ دی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ، مصنوعی ذہانت میں لسانی مساوات اور ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کے لیے مقامی ڈیٹا سیٹس کی تیاری اور ڈیجیٹل خواندگی میں سرمایہ کاری پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ سمٹ خطے میں تکنیکی نظم و نسق کی سمت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔