چین کا معاشی استحکام کے لیے جامع مالیاتی اقدامات کا اعلان

بیجنگ، 7 مئی 2025 (وام)--چین نے معاشی نمو کو سہارا دینے اور مالیاتی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کے لیے بدھ کے روز متعدد جامع مالیاتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سود کی شرحوں میں کمی اور لیکویڈیٹی میں اضافہ جیسے اہم فیصلے شامل ہیں۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب چین کو عالمی تجارتی بے یقینیوں اور داخلی سست روی کا سامنا ہے۔

چینی مرکزی بینک — پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) — کے گورنر پان گونگ شینگ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ سات روزہ ریورس ریپو ریٹ میں 10 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا رہی ہے، جس کے بعد یہ شرح 1.5 فیصد سے کم ہو کر 1.4 فیصد ہو جائے گی۔

اس فیصلے سے لون پرائم ریٹ (LPR) میں بھی 10 بیسس پوائنٹس کی ممکنہ کمی متوقع ہے، جو ملک کی بنیادی پالیسی ریٹ تصور کی جاتی ہے۔

مرکزی بینک نے مزید اعلان کیا کہ بینکوں کے لیے ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو (RRR) میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں تقریباً 1,000 ارب یوآن (یعنی 138.6 ارب امریکی ڈالر) کی اضافی لیکویڈیٹی شامل ہو جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بینکنگ سیکٹر میں کریڈٹ کی فراہمی میں آسانی پیدا کرے گا اور نجی شعبے کو مالی معاونت میں وسعت دے گا۔

حکومت کے تحت چلنے والے ہاؤسنگ پروویڈنٹ فنڈ سے حاصل ہونے والے پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے مارگیج ریٹ 25 بیسس پوائنٹس کم کر کے 2.85 فیصد سے 2.6 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد رہائشی شعبے کو فروغ دینا اور شہری متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو تقویت دینا ہے۔