ابوظہبی، 7 مئی 2025 (وام)-- متحدہ عرب امارات، جس کی نمائندگی وزارتِ خزانہ نے کی، نے ملک میں پہلی مرتبہ برکس تنظیم کا ایک اہم اجلاس "برکس فنانس ٹریک ورکنگ گروپ ٹاسک فورس آن پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ اینڈ انفراسٹرکچر (TFPPPI)" کی میزبانی کی۔ یہ اجلاس 5 اور 6 مئی کو ابوظہبی میں منعقد ہوا، جس میں سرکاری حکام، بین الاقوامی ماہرین، عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں، اور نجی شعبے کے قائدین نے شرکت کی۔
اجلاس کے حصے کے طور پر وزارتِ خزانہ نے ایک اعلیٰ سطحی سیمینار "ترقی کا نیا دور: برکس ممالک میں انفراسٹرکچر فنانسنگ کا نیا تصور" کے عنوان سے منعقد کیا، جس کا مقصد انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اختراعی فنانسنگ طریقہ کار کی تلاش اور عوامی و نجی شراکت داری کو فروغ دینا تھا۔ اجلاس کے شرکاء نے مصدر سٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں توانائی، پائیداری، اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں امارات کی پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے پیش کیے گئے، جو ملک کی مؤثر اور جدت انگیز انفراسٹرکچر ترقی و فنانسنگ کے عزم کا مظہر ہیں۔
اس موقع پر وزارتِ خزانہ کے انڈر سیکریٹری یونس حاجی الخوری، برازیل کی وزارتِ خزانہ کے بین الاقوامی امور کے انڈر سیکریٹری انتونیو فریطاس، سیکریٹری برائے بین الاقوامی امور سفیر تاتیانا روسیتو، اور متحدہ عرب امارات میں برازیلی سفیر سڈنی لیون رومیرو موجود تھے۔
یونس حاجی الخوری نے کہا کہ اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی اجلاس اور اس سے منسلک سیمینار کی میزبانی متحدہ عرب امارات کے عالمی اقتصادی تعاون میں ایک بااعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرتے کردار کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی اور مستقبل کی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ فنانسنگ ماڈلز کو فروغ دینے میں۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای تعلیم، صحت، صاف توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے کلیدی شعبوں میں اسٹریٹجک منصوبوں کی تکمیل کے لیے لچکدار اور اختراعی فنانسنگ ماڈلز اپنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ نہ صرف مالی فوائد حاصل ہوں بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات بھی مثبت ہوں۔
سفیر تاتیانا روسیتو نے برازیلی صدارت کی جانب سے شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار نہ صرف تعاون کو مضبوط کرے گا بلکہ BRICS ممالک میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت کے مشترکہ مقصد کو بھی آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے اس ٹاسک فورس اجلاس کو علامتی اہمیت کا حامل قرار دیا، جو برکس اقوام کے درمیان دوطرفہ و کثیرالطرفہ تعاون کو گہرا کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
مصدر سٹی کے سی ای او احمد بغوم نے کہا کہ برکس وفد کا مصدر سٹی کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شہر پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پائیدار ترقیاتی منصوبوں کا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے Siemens Energy، انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA)، اور محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصدر سٹی فری زون میں 1,500 سے زائد کمپنیاں کلین ٹیک، AI، اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔
سیمینار میں متعدد مکالماتی سیشنز منعقد کیے گئے جن میں برکس ممالک کے تجربات اور عالمی بہترین طریقہ کار کو اجاگر کیا گیا۔ موضوعات میں سماجی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اختراعی فنانسنگ ماڈلز، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ انفراسٹرکچر کے لیے "بلینڈڈ فنانس"، منصوبوں کے ڈھانچے اور خطرات کے تخفیفی متبادل، اور انشورنس کے کردار جیسے کلیدی پہلو شامل تھے۔
دوسرے دن میں حکومت اور صنعت کے نقطہ نظر پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں پالیسی اور عمل درآمد سے متعلق چیلنجز اور ٹیکنالوجی و معیشت میں تبدیلیوں کے تناظر میں مستقبل میں پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔