پیرس، 8 مئی، 2025 (وام)--بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جانب سے 5 مئی 2025 کو پورٹ سوڈان اتھارٹی کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے خلاف دائر کردہ مقدمے کو مسترد کیے جانے کے بعد، فرانسیسی قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو متحدہ عرب امارات کی مضبوط قانونی پوزیشن کا عکاس قرار دیا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے مستحکم اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ مقدمہ امارات پر دارفور خطے میں "نسل کشی کی حمایت" کا الزام لگاتے ہوئے دائر کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، امارات نے 1948 کی نسل کشی کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کی دفعہ 9 پر اپنی شقِ تحفظ کی بنیاد پر عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔ یہ دفعہ بین الدولتی تنازعات کی صورت میں آئی سی جے کو قانونی دائرہ اختیار فراہم کرتی ہے، تاہم جب امارات اس کنونشن کا فریق بنا تو اس نے واضح طور پر یہ شق تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا، جس کے باعث اس مقدمے کی قانونی بنیاد ہی ختم ہو گئی۔
امارات کا مؤقف صرف اسی پر مبنی نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی معاہدوں میں قانونی تحفظات کی اجازت دینے والی 1969 کی ویانا کنونشن سے بھی ہم آہنگ ہے۔ فرانسیسی ماہرین کے مطابق دفعہ 9 کا تعلق کنونشن کی بنیادی دفعات سے نہیں بلکہ دائرہ اختیار کے طریقہ کار سے ہے، اس لیے امارات کی شقِ تحفظ بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز اور مؤثر ہے۔
سوربون یونیورسٹی کے پروفیسر، ژاں پال لیبلانک نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ اگر تحفظات (Reservations) سوچ سمجھ کر دیے جائیں تو وہ بین الاقوامی عدالتوں میں مؤثر اور قابلِ دفاع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات ابتدا سے ہی بین الاقوامی قانون کی پاسداری کر رہا ہے۔
یورپی مرکز برائے تنازعات کی روک تھام کی نائب صدر اور ماہرِ بین الاقوامی قوانین، کلیر دومار نے کہا کہ آئی سی جے کا فیصلہ ریاستی خودمختاری کے اصول کو تقویت دیتا ہے اور واضح پیغام ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا،"یہ نہ صرف قانونی فتح ہے بلکہ اس امر کی تصدیق بھی کہ کسی بھی ریاست پر لگائے گئے الزامات اگر سیاسی ہوں، تو بھی انہیں بین الاقوامی قانون کے سخت دائرہ اختیار اور ثبوت کے معیارات پر پورا اترنا ہو گا۔"
کلیر دومار نے مزید کہا کہ عدالت نے نہ صرف مقدمے کو خارج کیا بلکہ اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امارات کا سوڈانی معاملات میں کوئی مداخلت یا بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی انصاف کو سیاسی رنگ دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرے گا اور بین الاقوامی عدالتوں کے وقار کو بحال رکھے گا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قانونی کامیابی کے بعد امارات کو علاقائی سطح پر سفارتی اور انسانی سرگرمیوں میں مزید گنجائش حاصل ہو گی۔ یہ فیصلہ اس کے عالمی تشخص کو بطور ایک ذمہ دار، قانون پسند ریاست مزید مستحکم کرتا ہے۔
آخر میں، انہوں نے اس فیصلے کو ایک اہم قانونی نظیر (precedent) قرار دیا جو مستقبل میں ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی خودمختاری کا تحفظ مؤثر انداز میں کر سکیں۔