متحدہ عرب امارات میں بین المذاہب مکالمے اور برداشت کو فروغ دینے کے لیے 'سفرائے بقائے باہمی' اقدام کی سرگرمیاں جاری، آسٹریا اور بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت

ابوظہبی، 14 مئی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات میں آسٹریا کے سفیر ڈاکٹر ایٹیئن برشٹولڈ نے کہاکہ سوربون یونیورسٹی ابوظہبی میں منارہ سنٹر فار کو ایکزسٹنس اینڈ ڈائیلاگ کے تحت شروع کیا گیا "سفرائے بقائے باہمی" اقدام امن اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متنوع پروگرامز پیش کر رہا ہے۔

امارات نیوز ایجنسی (وام) سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر برشٹولڈ نے کہا کہ یہ اقدام سام دشمنی، پرتشدد انتہا پسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ایک مؤثر ماڈل فراہم کر رہا ہے، جو مکالمے اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات انتہا پسندی کے خلاف اقدامات میں آسٹریا اور مغرب کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور اس کے تجربات کو اپنانے کے قابل ماڈل قرار دیا۔

ڈاکٹر برشٹولڈ نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال ابوظہبی میں ابراہیمی فیملی ہاؤس میں آسٹریا اور متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ایک بین المذاہب تقریب کا کامیاب انعقاد ہوا تھا، جس نے مستقبل میں مزید تعاون کی بنیاد فراہم کی۔

ایڈوینچر پارٹنرز کے بانی اور سی ای او ٹونی سگرو نے کہا کہ اس اقدام کے دوسرے ایڈیشن میں بین الاقوامی جامعات کے طلبہ کو بااختیار بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل مہمات تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں طلبہ کو تحقیقی مقالے، معیاری ویڈیو مواد اور مربوط ڈیجیٹل مہمات تیار کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے، جو زیادہ پرامن معاشروں کے لیے ان کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔

ابوظہبی میں کوپٹک آرتھوڈوکس چرچ آف سینٹ انتھونی کے پاسٹر ریو. بشوی فخری نے اعلان کیا کہ نوجوانوں پر مرکوز ایک منصوبہ "پیسمیکرز" کے عنوان سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں میں امن سازی کی اقدار پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ مزید وسعت اختیار کر رہا ہے اور کانفرنس کے دوران اس پر مزید بات ہو گی۔

امریکن یونیورسٹی آف نائجیریا کے طالب علم اسحاق کوٹسوا سائمن نے کہا کہ ان کی ٹیم "Ubuntu for Peace" کے عنوان سے ایک مہم چلا رہی ہے، جو افریقی فلسفۂ مشترکہ انسانیت سے متاثر ہے۔ اس مہم میں امن مکالمے، کمیونٹی ورکشاپس، شجر کاری اور پانی کی کمی جیسے مسائل پر کام شامل ہے تاکہ امن کے فروغ میں مدد ملے۔

مہامیونوا بدھسٹ موناسٹری سری لنکا کے نمائندے وین. مدیتاویہاری تھرو بالانگودا نے کہا کہ یہ اقدام دنیا بھر میں امن اور بقائے باہمی کا پیغام پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے منارہ سنٹر کے ساتھ جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سری لنکا میں بھی ان اقدار کے فروغ کے لیے ایک بڑا پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔