غزہ، 17 مئی، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی بچوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک مقام بن چکی ہے، جہاں اب کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہی۔ صرف گزشتہ دو روز کے دوران جاری اسرائیلی حملوں میں 45 سے زائد فلسطینی بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یونیسف مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا کہ بچوں کو ان مقامات پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جو روایتی طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، جیسے اسپتال، اسکول، پناہ گاہیں اور بے گھر افراد کے خیمے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 19 ماہ کے دوران غزہ بچوں کے لیے جان لیوا علاقہ بن چکا ہے، اور صرف گزشتہ دو ماہ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 950 سے زائد فلسطینی بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جو بچے زندہ ہیں، وہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں جن میں مسلسل بمباری، خوراک، پانی اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی شامل ہے۔
بیگبیڈر نے کہا کہ انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، اور بچوں کو درپیش خطرات صرف بم اور گولیاں نہیں بلکہ بھوک، بیماری اور آلودہ پانی بھی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں اب منظم اور روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، اور فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ بچوں کو تشدد اور جان کے ضیاع سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بیگبیڈر نے یونیسف کی جانب سے فوری جنگ بندی، بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام، بلا رکاوٹ امدادی رسائی، شہریوں کے تحفظ، اور گرفتار افراد کی رہائی کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا۔