دبئی، 6 جولائی (وام)--دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والی معروف کمپنی 'Pony.ai' کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت دبئی میں خودکار گاڑیوں کی آزمائشی سروس کا آغاز رواں سال کے آخر میں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد 2026 میں مکمل طور پر خودکار تجارتی ٹرانسپورٹ سروس کا آغاز ہے۔
'Pony.ai' نے حال ہی میں ساتویں جنریشن کی خودکار گاڑیوں کا انکشاف کیا ہے، جنہیں ٹویوٹا، جی اے سی، اور بی اے آئی سی جیسے بڑے کار ساز اداروں کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے۔ ان گاڑیوں میں جدید مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اور لائڈار، ریڈارز، اور کیمروں جیسے اعلیٰ معیار کے سینسرز شامل ہیں، جو ہر قسم کے موسمی و زمینی حالات میں درست نیویگیشن اور حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔
کمپنی نے ٹینسینٹ اور علی بابا جیسے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ بھی شراکت داری کی ہے تاکہ روبوٹیکسی سروسز کو وی چیٹ اور علی پے جیسے پلیٹ فارمز سے منسلک کیا جا سکے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے چیئرمین مطر الطایر اور ‘Pony.ai’ کے چیف فنانشل آفیسر ڈاکٹر لیو وانگ شریک ہوئے۔
آر ٹی اے کی جانب سے یہ معاہدہ احمد ہاشم بہروزیان، چیف ایگزیکٹو آف پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی، جبکہ 'Pony.ai' کی جانب سے این شی، نائب صدر برائے اسٹریٹیجی و بزنس ڈیولپمنٹ، نے دستخط کیا۔ دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مطر الطایر نے 'Pony.ai' کے ساتھ معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت دبئی کی خودکار ٹرانسپورٹ اپنانے کی کاوشوں میں اہم سنگِ میل ہے اور شہر کی عالمی سطح پر مستقبل کی نقل و حمل میں قائدانہ حیثیت کو مزید تقویت دے گی۔ انہوں نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ 'Pony.ai' نے چین سے باہر اپنی عالمی توسیع کے لیے دبئی کو منتخب کیا ہے۔
الطایر نے مزید کہا کہ آر ٹی اے کی جانب سے خودکار نقل و حمل کے شعبے میں عالمی اداروں سے شراکت داری کو فروغ دینا "دبئی اسمارٹ سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ اسٹریٹیجی" کا حصہ ہے، جس کا ہدف 2030 تک شہر کی 25 فیصد ٹرانسپورٹ کو خودکار بنانا ہے۔ یہ قدم نہ صرف ٹرانسپورٹ نظام کے انضمام کو بہتر بنائے گا بلکہ پہلی اور آخری منزل تک سفر کی سہولت میں بھی معاون ہوگا، جس سے رہائشیوں اور سیاحوں کی روزمرہ نقل و حرکت میں آسانی، ٹریفک سیفٹی میں بہتری، اور معیارِ زندگی میں اضافہ ممکن ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ، "خودکار نقل و حرکت اب محض مستقبل کا خواب نہیں، بلکہ ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا بھر کی معروف کمپنیاں خودکار ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئر کی ترقی میں سرعت سے آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ حکومتیں متعلقہ لائسنسنگ و ضوابطی اداروں کے ذریعے انفراسٹرکچر اور قانون سازی کا فریم ورک فراہم کر رہی ہیں۔"
دوسری جانب 'Pony.ai' کے سی ایف او ڈاکٹر لیو وانگ نے اس شراکت کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آر ٹی اے کے ساتھ تعاون لیول 4 خودکار ٹیکنالوجی کو عالمی منڈیوں میں بروئے کار لانے کے ہمارے عزم کی عملی مثال ہے۔ ان کے بقول، دبئی کی قیادت کے وژن کے ساتھ ہم اپنی ٹیکنالوجی کو ہم آہنگ کر کے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (مینا) خطے میں ایک سمارٹ ٹرانسپورٹ ماڈل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔