اسلاموفوبیا سنگین خطرہ ہے، عالمی سطح پر اس کا مؤثر تدارک ضروری ہے: عرب لیگ

قاہرہ، 9 جولائی، 2025 (وام)--عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک سنگین اور تشویشناک رجحان ہے جسے نظر انداز کرنا یا معمولی سمجھنا ناقابل قبول ہے۔ ان خیالات کا اظہار ان کی جانب سے بین الاقوامی کانفرنس میں کیے گئے خطاب میں کیا گیا، جو عرب لیگ کے صدر دفتر میں "اسلاموفوبیا: موجودہ عالمی تناظر میں مفہوم اور عمل" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔

مصری خبر رساں ادارے (مینا) کے مطابق، یہ خطاب عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور میڈیا و مواصلاتی امور کے سربراہ، سفیر احمد رشید خطابی نے پیش کیا۔ خطاب میں کہا گیا کہ یہ کانفرنس ایک نہایت اہم اور حساس انسانی و اخلاقی مسئلے پر غور کے لیے منعقد کی گئی ہے، جو بین الانسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے اور باہمی رواداری، ہم آہنگی اور احترام کے اصولوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

بیان میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ اسلاموفوبیا کا پھیلاؤ کئی سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ان میں نامکمل قوانین، دہشت گردی و انتہاپسندی کو اسلام سے جوڑنے کی مصنوعی کوششیں، اسلامی تعلیمات سے لاعلمی، میڈیا کا اشتعال انگیز کردار، "دوسرے" سے خوف، اور قومی شناخت کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ ان عوامل نے مسلمانوں کے خلاف تعصب، منفی تاثر، نفرت انگیزی اور دشمنی کو ہوا دی ہے۔

عرب لیگ کے سربراہ نے اس مسئلے سے ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ بھی اس خطرے کی سنگینی کو تسلیم کر چکی ہے۔ اسی بنا پر اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی دن منانے کا اعلان کیا گیا، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے ایک خصوصی مندوب کی تقرری بھی کی گئی ہے۔

ابوالغیط نے زور دیا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف اجتماعی اور ہم آہنگ کوششوں کو مربوط کیا جانا ضروری ہے، تاکہ اس کے اسباب کا گہرائی سے تجزیہ کیا جا سکے اور مستقبل میں اس کے سدباب کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔