یو اے ای وفد کا لائیڈز آف لندن میں اہم اجلاس، بحری شعبے میں اشتراک پر گفتگو

لندن، 9 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے دنیا کی معروف انشورنس مارکیٹ لائیڈز آف لندن کا دورہ کیا، جو 200 سے زائد ممالک اور خطوں میں کاروباری اداروں کو خصوصی انشورنس خدمات فراہم کرتی ہے۔

یہ دورہ بحری نقل و حمل اور انشورنس کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی عالمی مسابقت کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا تاکہ دنیا کی صف اول کی انشورنس کمپنی کے ساتھ تجربات کا تبادلہ اور اشتراکِ عمل ممکن بنایا جا سکے۔

وفد کی قیادت انجینئر حصہ المالک نے کی، جو وزارت توانائی و بنیادی ڈھانچے میں بحری نقل و حمل کے امور کی مشیر ہیں۔ ان کے ہمراہ فجیرہ، شارجہ اور راس الخیمہ کی بندرگاہی اتھارٹیز کے اعلیٰ نمائندے، بحری جہاز رانی اور انشورنس کے ماہرین بھی شامل تھے۔

دورے کے دوران دونوں فریقین نے بحری انشورنس اور ری انشورنس میں تعاون کے فروغ، اور جدید خطرہ انتظامی حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، جو نہ صرف عالمی تجارتی حرکیات سے ہم آہنگ ہیں بلکہ سپلائی چین کی پائیداری اور لچک میں بھی بہتری کا باعث بن سکتے ہیں۔

وفد کو لائیڈز آف لندن کے اندرونی عملیاتی طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس میں انشورنس قیمتوں کے تعین، کلیم مینجمنٹ، ری انشورنس کے طریقے، اور اس شعبے سے وابستہ قواعد و ضوابط و نگرانی کے نظام شامل تھے۔

اس دورے میں مختلف میدانی دورے اور مارکیٹ کے نمایاں ماہرین و فیصلہ سازوں سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔

ان ملاقاتوں میں انجینئر حصہ المالک نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات ایک مربوط بحری نظام کا حامل ملک ہے، جو خطے میں سب سے ترقی یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی بحری پالیسیاں اور قانون سازی بین الاقوامی معیارات کے عین مطابق مسلسل بہتر بنائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس دورے کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے عالمی بحری انشورنس اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا، تاکہ قومی سطح پر بحری انشورنس مارکیٹ کی ترقی اور ملک میں بحری کاروباری ماحول کو تحریک دی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے دیرپا شراکتی ماڈلز کا قیام نہایت ضروری ہے جو متحدہ عرب امارات کے بحری و لاجسٹک خدمات میں عالمی قیادت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں معاون ثابت ہوں۔