لاہور، 9 جولائی، 2025 (وام) -- پاکستان کے مشرقی صوبے پنجاب میں مون سون کی شدید سرگرمیوں کے پیش نظر محکمہ زراعت نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے فوری ہدایات جاری کی ہیں۔ اگرچہ معتدل بارشیں فصل کی نشوونما اور پھول بننے کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں، تاہم زیادہ بارش اور پانی جمع ہونے کی صورت میں کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، محکمہ زراعت کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کا پانی کھیتوں میں 24 گھنٹوں سے زیادہ رکا رہے تو اس سے کپاس کی فصل کو نمایاں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اضافی پانی زمین میں موجود اہم غذائی اجزاء کو جڑوں کی پہنچ سے نیچے دھکیل دیتا ہے، جس سے پودے میں غذائی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کمی کے باعث فوٹو سنتھیسز کا عمل سست ہو جاتا ہے، پودے کی نشوونما رک جاتی ہے اور گولے بننے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ زراعت نے ہدایت کی ہے کہ کاشتکار فوری طور پر نکاسیٔ آب کے انتظامات کریں۔ اس ضمن میں کھیت کے کناروں پر گہرے نالے کھود کر اضافی پانی کو قریبی نہروں یا چاول یا گنے جیسے پانی برداشت کرنے والی فصلوں والے کھیتوں کی طرف موڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جہاں بیرونی نکاسی ممکن نہ ہو، وہاں کھیت کے دونوں سروں پر گہرے گڑھے کھود کر پانی جمع کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کھیت میں پانی کھڑا نہ ہونے پائے۔
محکمے نے مزید مشورہ دیا ہے کہ بارش کے دو سے تین دن بعد کھیتوں پر 20 فیصد یوریا محلول کا اسپرے کیا جائے تاکہ نائٹروجن کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ جب زمین میں نمی کا مناسب توازن قائم ہو جائے، جسے مقامی زبان میں "وتر" کہا جاتا ہے، تو فی ایکڑ یوریا کی ایک مکمل بوری کا استعمال فصل کی بحالی اور نمو کے لیے ضروری ہوگا۔
محکمہ زراعت نے زور دیا ہے کہ کاشتکار فوری اور بروقت اقدامات کریں تاکہ مون سون کے موسم میں کپاس کی فصل کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ پانی کی مؤثر نکاسی اور غذائیت کی بروقت فراہمی فصل کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔